تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 401 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 401

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از تقریر فرموده 07 اپریل 1968ء یہ بھی ایک چھوٹا سا فقرہ ہے اور بہت کم لوگوں نے اس کی اہمیت، اس کی وسعت اور اس کی شان کا احساس کیا ہو گا۔جب مضمون پڑھا گیا اور اس میں مضمون پڑھنے والے نے وہ سارے واقعات سامنے رکھے تو میں دیکھ رہا تھا کہ سنے والوں کی آنکھیں بیٹھی ہوئی تھیں۔بظاہر یہ چھوٹی سی خبر تھی لیکن اللہ تعالیٰ اسے کس طرح مختلف رنگوں میں پورا کرتا چلا گیا اور جو موجودہ شاہی خاندان ہے، اس سے پہلے شاہی خاندان نے کئی جلوے اس الہام کے دیکھے۔یہاں تک کہ ان کا خاندان بادشاہ ہونے کے لحاظ سے تباہ ہو گیا اور اس کی جگہ دوسرا خاندان آیا۔تو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر فیصلہ کیا کہ اپنے ایک اس بندہ کو کہ جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اس قد رفتا ہوا کہ امت محمدیہ کے کسی فرد کے سینہ میں اس شدت کے ساتھ اس محبت کی آگ کبھی نہیں سلگی، اس زمانہ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے چنا۔اور اسے وعدہ دیا کہ میں تیرے ذریعہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض اور برکتوں کے طفیل ایک جماعت تجھے دوں گا اور اس جماعت کے ذریعہ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کروں گا۔اور یہ غلبہ میری نصرت اور تائید کے نتیجہ میں ہوگا۔تمہاری اپنی طاقت اور ز دور اقتدار کے نتیجہ میں نہیں ہوگا۔اور ایک وقت تک میں تمہیں مظلوم رکھنا چاہوں گا۔تم مظلوم رہنا اور سوائے میرے کسی اور کی طرف نگاہ نہ کرنا۔اور میں تم سے بے وفائی نہیں کروں گا اور ضرورت کے وقت تمہارے پاس پہنچوں گا اور اپنی محبت اور اپنی رضا اور اپنی رحمت اور اپنے فضل کے جلوے تم پر کروں گا اور دنیا کے لئے تمہیں ایک نمونہ بناؤں گا۔ہماری جماعت کو جہاں بھی وہ ہو، دنیا میں اس وقت مظلوم رہ کر اپنے رب کے جلووں کو جذب کرنا چاہئے۔اور خدا نے کہا کہ میں دلائل قطعیہ کا ایک عظیم الشان خزانہ تجھے اور تیری وساطت سے تیری جماعت کو دوں گا اور دنیا کا کوئی عالم اور دنیا کا کوئی فلسفی تمہارے بچوں کے سامنے بھی ٹھہر نہیں سکے گا۔ابھی میں نے چند دوستوں کے سامنے ایک بات بیان کی تھی۔گو بیسیوں نہیں سینکڑوں ایسے واقعات ہیں۔لیکن یہ ایک تازہ نمونہ ہے کہ ایک دس، بارہ سال کا بچہ مشرقی افریقہ میں تبلیغ کر رہا تھا۔وہ چھوٹا سا بچہ ہے اور بڑا تخلص ہے۔ایک اچھا پڑھا لکھا اور سمجھدار آدمی اس کو نظر آیا، وہ اس کے پاس گیا اور نائیجیریا سے ہمارا ایک انگریزی اخبار چھپتا ہے، اس اخبار کا ایک پر چہ اس کے ہاتھ میں دیا۔اس شخص نے اخبار کا وہ پر چہ دیکھا اور پھر واپس کر دیا۔اور پھر اس بارہ سال کے بچہ کو کہنے لگا کہ تم کون ہو ، احمدی ہو؟ اس بچے نے کہا، ہاں، میں احمدی ہوں۔اس شخص نے کہا، پھر سنو، تم احمدی ہو اور میں کیتھولک ہوں اور ہمیں 401