تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 358
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 اکتوبر 1968ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم سَيْطَوَّقُون ان کے گلے میں ایک طوق ڈالا جائے گا۔اور وہ طوق تمثیلی زبان میں ان اموال کا ہوگا، جو اس دنیا میں خدا کی راہ میں خرچ نہ کر کے وہ بچایا کرتے تھے۔اور اس طوق کی وجہ سے ہر وہ شخص جو جہنم میں پھینکا جائے گا، جان لے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں کہا گیا تھا کہ اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے اور خدا کو راضی کرنے کے لئے اپنے اموال اس کے سامنے پیش کرو۔مگر انہوں نے اس کی آواز نہ سنی اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک نہ کہا اور دنیا کے اموال کو اخروی بھلائی پر ترجیح دی۔اور نتیجہ اس کا یہ ہے کہ آج یہ جہنم میں ہیں اور ذلت کا عذاب انہیں دیا جارہا ہے۔جہنم کے عذاب میں تو سارے شریک ہیں لیکن یہ طوق بتا رہا ہوگا کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو اپنے اموال کی تو حفاظت کیا کرتے تھے لیکن اپنی جانوں کی حفاظت نہیں کیا کرتے تھے، اپنی ارواح کی حفاظت نہیں کیا کرتے تھے۔ایک نتیجہ اس بخل کا اس دنیا میں نکلے گا۔اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَ لِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ آسمانوں اور زمین کی ہرشی اللہ کی میراث ہے۔اور میراث کے ایک معنی لغت نے یہ بھی کئے ہیں کہ ایسی چیز ، جو بغیر کسی تکلیف کے حاصل ہو جائے۔پس اللہ جو خالق ہے، رب ہے اور جس کی قدرت میں اور طاقت میں ہر چیز ہے، جس کے کن کہنے سے ساری خلق معرض وجود میں آئی ہے، کسی چیز کے پیدا کرنے یا اس کے حاصل کرنے میں اسے کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی اور جب ہر چیز اللہ ہی کی میراث اور ملکیت ہے تو جو شخص بھی اللہ کو ناراض کرے گا، وہ اس دنیا میں اموال کی برکت سے محروم ہو جائے گا یا کوئی اور دکھ اس کو پہنچایا جائے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ایک مثال دی۔اور وہ یہود کی مثال ہے کہ جب مسلمانوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کرو تو یہود میں سے بعض کہتے ہیں کہ اچھا، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اللہ ہوا فقیر اور ہم ہوئے بڑے امیر۔ہمارے اموال کی خدا کوضرورت پڑ گئی ہے، اس لئے وہ ہم سے مانگ رہا ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا۔چونکہ بل کے ساتھ ذات باری کا استہزاء بھی شامل ہو گیا ہے، اس لئے انہیں عذاب حریق یعنی ایک جلن والا عذاب دیا جائے گا۔اور ان لوگوں کو، جنہوں نے اس قسم کے فقرے مسلمانوں کو ورغلانے اور بہکانے کے لئے کہے تھے ، اسی دنیا سے جلن کا عذاب شروع ہو گیا تھا۔اسلام ترقی کرتا چلا گیا اور وہ لوگ جو غریب تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے ، ساری دنیا کے اموال ان کے قدموں پر لا ر کھے۔اور جو مخالف بھی خدا تعالیٰ کے ان فضلوں اور انعاموں کو دیکھا تھا، وہ اس بات کا مشاہدہ کرتا تھا کہ سچا ہے، وہ جس نے یہ کہا تھا کہ 358