تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 357
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 اکتوبر 1968ء ہر چیز اللہ کی ہی ہے، اس لئے اس کی راہ میں خرچ کرنا برکت کا موجب ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 18اکتوبر 1968ء وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا أَتَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيْطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ وَ لِلَّهِ مِيَرَاتُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيْرٌ لَقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ (آل عمران 182 - 181 ) ج يَايُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءِ إِلَى اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ إِنْ يَشَايُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدِ وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزِ (فاطر 18-16) اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں سب کچھ دیتا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی اس دین میں سے مالی قربانیاں پیش نہیں کرتے۔بلکہ بجل سے کام لیتے ہیں اور یہ مجھتے ہیں کہ ان کا اپنے اموال کو خدا کی راہ میں خرچ نہ کرنا، دنیوی فوائد پر منتج ہوگا۔اور اسی میں ان کی بھلائی ہے۔اگر وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کریں گے تو انہیں نقصان ہو گا۔ان کا خدا کی راہ میں اموال خرچ کرنا، ان کے لئے خیر کا موجب نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ خیال درست نہیں۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ (شَر لَهُم) ایسا کرنا ، ان کے لئے بہتر نہیں بلکہ ان کے لئے ہلاکت اور برائی کا باعث بنے گا۔اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو وہ مول لینے والے ہوں گے۔اس بخل کے دو قسم کے نتائج نکلیں گے۔ایک اس دنیا میں اور ایک اس دنیا میں۔جو شخص بخل سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ، اس کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ نہیں کرتا ، وہ اس دنیا میں جہنم میں پھینکا جائے گا۔اور وہاں اسے ایک نشان دیا جائے گا۔جس سے سارے جہنمی سمجھ لیں گے کہ وہ اس لئے اس جہنم میں آیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ نہیں کیا کرتا تھا۔357