تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 298 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 298

خطبہ جمعہ فرمودہ 20 اکتوبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم شاید آپ اسے ایک افسانہ سمجھیں۔مگر وہ، جو اس تیسری عالمگیر تباہی سے بچ نکلیں گے اور زندہ رہیں گے، وہ دیکھیں گے کہ یہ خدا کی باتیں ہیں۔اور اس قادر و توانا کی باتیں ہمیشہ پوری ہی ہوتی ہیں۔کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔پس تیسری عالمگیر تباہی کی انتہا اسلام کے عالمگیر غلبہ اور اقتدار کی ابتدا ہو گی۔اور اس کے بعد بڑی سرعت کے ساتھ اسلام ساری دنیا میں پھیلنا شروع ہوگا اور لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لیں گے۔اور یہ جان لیں گے کہ صرف اسلام ہی ایک سچا مذ ہب ہے اور یہ کہ انسان کی نجات صرف محمد رسول اللہ کے پیغام کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہے۔اب ظاہر ہے کہ پہلے جاپان اور چین کا پیشگوئی کے مطابق مشرقی طاقت کے رنگ میں افق پر ابھرنا، روس کے شاہی خاندان اور شاہی نظام کی تباہی، اس کی بجائے کمیونزم کا قیام اور سیاسی اقتدار اور پھر دنیا میں اس کا نفوذ بڑھنا، پہلی عالمگیر جنگ، جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا اور پھر دوسری عالمگیر جنگ، جس نے دوبارہ دنیا کا نقشہ بدل دیا، ایسے اہم واقعات ہیں، جو تاریخ انسانیت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ سب واقعات اسی طرح ظہور میں آئے ، جس طرح کہ ان کی پہلے سے خبر دی گئی تھی۔یادرکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مقصد کو پورا کر کے 26 مئی 1908ء کو اپنے خدا کے حضور حاضر ہو گئے۔ان تمام پیشگوئیوں کی اس سے قبل ہی وسیع پیمانے پر اشاعت ہو چکی تھی۔اس لئے یہ بات یقینی ہے کہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کے متعلق جو پیش خبریاں دی گئیں اور نبوت کی گئی ہے، وہ بھی ضرور اپنے وقت پر پوری ہوں گی کیونکہ یہ پیش خبریاں ایک ہی سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہیں۔یہ بھی یادر ہے کہ اسلام کے غلبہ اور اسلامی صبح صادق کے طلوع کے آثار ظاہر ہورہے ہیں۔گو ابھی دھندلے ہیں لیکن اب بھی ان کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔اسلام کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوگا اور دنیا کو منور کرے گا۔لیکن پہلے اس سے کہ یہ واقع ہو، ضروری ہے کہ دنیا ایک اور عالمگیر تباہی میں سے گذرے۔ایک ایسی خونی تباہی ، جو بنی نوع انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گی۔لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ ایک انداری پیش گوئی ہے اور انداری پیشگوئیاں تو بہ اور استغفار سے التوا میں ڈالی جاسکتی ہیں بلکہ مل بھی سکتی ہیں۔اگر انسان اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور تو بہ کرے اور اپنے اطوار درست کر لے، وہ اب بھی خدائی غضب سے بچ سکتا ہے۔اگر وہ دولت اور طاقت اور عظمت کے جھوٹے خداؤں کی پرستش چھوڑ دے اور اپنے رب سے حقیقی تعلق قائم کرے، فسق و فجور سے باز آ جائے ، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے لگے اور بنی نوع انسان کی سچی خیر خواہی اختیار کرلے۔مگر اس کا انحصار تو ان قوموں پر ہے، 298