تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 297 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 297

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 20 اکتوبر 1967ء اپنی تباہی کا سامان پیدا کریں گی۔لیکن صرف اس ایک جنگ کے بارے میں ہی پیشگوئی نہیں تھی بلکہ بانی سلسلہ احمدیہ نے پانچ عالمگیر تباہیوں کی خبر دی ہے۔پہلی جنگ عظیم کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ دنیا سخت گھبرا جائے گی ، مسافروں کے لئے وہ وقت سخت تکلیف کا ہوگا، ندیاں خون سے سرخ ہو جائیں گی، یہ آفت یک دم اور اچانک آئے گی۔اس صدمہ سے جوان بوڑھے ہو جائیں گے، پہاڑ اپنی جگہوں سے اڑا دیئے جائیں گے، بہت سے لوگ اس تباہی کی ہولناکیوں سے دیوانے ہو جائیں گے۔یہی زمانہ زار روس کی تباہی کا ہوگا۔اس زمانے میں کمیونزم کا بیج دنیا میں بویا جائے گا، جنگی بیڑے تیار رکھے جائیں گے اور خطر ناک سمندری لڑائیاں لڑی جائیں گی۔حکومتوں کا تختہ الٹ دیا جائے گا،شہر قبرستان بن جائیں گے۔اس تباہی کے بعد ایک اور عالمگیر تباہی آئے گی، جو اس سے وسیع پیمانے پر ہوگی اور زیادہ خوفناک نتائج کی حامل ہوگی۔وہ دنیا کا نقشہ ایک دفعہ پھر بدل دے گی اور قوموں کے مقدر کونئی شکل دے دی گی۔کمیونزم بہت زیادہ قوت حاصل کرلے گی اور اپنی مرضی منوانے کی طاقت اس میں پیدا ہو جائے گی اور وہ وسیع و عریض رقبہ پر چھا جائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا، مشرقی یورپ کے بہت سے حصے کمیونسٹ ہو گئے اور چین کے ستر کروڑ باشندے بھی اسی راستے پر چل پڑے۔اور ایشیا اور افریقہ کی ابھرتی ہوئی قوموں میں کمیونزم کا اثر ونفوذ بہت بڑھ گیا۔ہے، دنیا دو متحارب گروہوں میں منقسم ہو گئی ہے، جن میں سے ہر ایک جدید ترین جنگی ہتھیاروں سے لیس اور اس بات کے لئے تیار ہے کہ انسانیت کو موت وتباہی کی بھڑکتی ہوئی جہنم میں دھکیل دے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک تیسری جنگ کی بھی خبر دی ہے، جو پہلی دونوں جنگوں سے زیادہ تباہ کن ہوگی۔دونوں مخالف گروہ ایسے اچانک طور پر ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے کہ ہر شخص دم بخودرہ جائے گا، آسمان سے موت اور تباہی کی بارش ہوگی اور خوفناک شعلے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔نئی تہذیت کا قصر عظیم زمین پر آ رہے گا، دونوں متحارب گروہ یعنی روس اور اس کے ساتھی اور امریکہ اور اس کے دوست ہر دوتاہ ہو جائیں گے، ان کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی ، ان کی تہذیب وثقافت بر باداوران کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔بیچ رہنے والے حیرت اور استعجاب سے دم بخود اور ششدر رہ جائیں گے۔روس کے باشندے نسبتا جلد اس تباہی سے نجات پائیں گے اور بڑی وضاحت سے یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اس ملک کی آبادی پھر جلد ہی بڑھ جائے گی اور وہ اپنے خالق کی طرف رجوع کریں گے۔اور ان میں کثرت سے اسلام پھیلے گا اور وہ قوم ، جوز مین سے خدا کا نام اور آسمان سے اس کا وجود مٹانے کی شیخیاں بھگار رہی ہے، وہی قوم اپنی گمراہی کو جان لے گی اور حلقہ بگوش اسلام ہوکر اللہ تعالیٰ کی توحید پر پختگی سے قائم ہو جائے گی۔297