تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 256 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 256

خطبہ جمعہ فرمود 15 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اس نے اپنے وعدہ کو پورا کیا اور اس قسم کے سامان پیدا کر دیئے کہ کسی اور کی مدد اور نصرت کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔اور آسمان سے (ایسا معلوم ہوتا تھا ) فرشتوں کا نزول ہو رہا ہے اور اس علاقہ اور فضا کو اپنے تصرف میں لے لیتا ہے، جہاں ہم سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ایک موقع پر ( ہے تو یہ چھوٹی سی بات لیکن لطف بڑا دیتی ہے۔) ہمیں سفر کے انتظامات کے سلسلہ میں کچھ فکر تھی۔اس کے لئے ہم انتظام کر رہے تھے اور نا کام ہورہے تھے۔یہاں تک کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جیسے مشہور انسان ، جن کی لوگ بات سنتے ہیں، انہوں نے کوشش کی اور ان سے انکار کر دیا گیا کہ ہم یہ انتظام نہیں کریں گے۔تب اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ تمہارے تو سارے انتظام ناکام ہو جائیں گے لیکن میں انتظام کر دوں گا۔چنانچہ جن باتوں سے ہمیں ڈرایا گیا تھا، ان سے الٹ ہم نے وہاں دیکھا۔پتہ نہیں کیا ہوا؟ ہمیں اسباب کا علم نہیں ہوا؟ لیکن ہر وہ چیز جو ہم چاہتے تھے کہ ہو جائے ، اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے انتظام کر دیا تھا اس کے بعد۔حالانکہ (جیسا کہ میں نے بتایا ہے ) چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے انکار کر دیا گیا ، کہہ دیا گیا تھا کہ ہم انتظام نہیں کر سکتے۔یہ تو ایک چھوٹی سی ظاہری مثال ہے، جس سے ظاہر بین آنکھ بھی اندازہ لگا سکتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ہمیں دراصل اپنے احسانوں کے نیچے دبا دینا چاہتا تھا؟ وہ ہمیں ایک نئی قوم بنانا چاہتا تھا۔تا کہ ہم اپنی نئی ذمہ داریوں کو نبھانے کے قابل ہو سکیں۔تو پہلا سلسلہ احسانوں کا، بشارتوں کا سلسلہ ہے، جو بڑی کثرت سے جماعت پر کئے گئے اور ہم الفاظ میں اس کا شکر بجا نہیں لا سکتے۔( جو شکر کرنے کے طریق ہیں، میں ان کے متعلق بعد میں کچھ کہوں گا۔) دوسر ا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا یوں شروع ہوا کہ آج کل بعض وجوہات کی بناء پر تمام یورپ کے ممالک میں اسلام کے خلاف تعصب اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔وہ مسلمان کی شکل تک دیکھنا برداشت نہیں کرتے۔اور کئی بیچارے مسلمانوں پر ان ملکوں میں جہاں یہ بات بظاہر ناممکن نظر آتی ہے، چھرے سے حملے بھی ہوئے۔تعصب اس حد تک پہنچا ہوا ہے کہ ہمارے بہت سے مبلغین نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ بہتر یہ ہے کہ پریس کانفرنس نہ بلائی جائے۔کیونکہ پتہ نہیں ، کس قسم کے تمسخر اور استہزا کے ساتھ وہ سوال کریں گے؟ اور کیا اپنے اخباروں میں لکھ دیں گے ؟ کیونکہ اس وقت اس قسم کا تعصب ہے کہ وہ ہر قسم کا جھوٹ اسلام کے خلاف بولنے کے لئے تیار ہیں۔ان میں سے ہمارے ایک مبلغ بہت ہی زیادہ گھبرائے ہوئے تھے۔مجھے انہیں کہنا پڑا کہ تم فکر نہ کرو۔مجھ سے سوال ہوں گے، میں نے جواب دینے ہیں تم خواہ مخواہ پریشان ہو رہے ہو۔انتظار کرو۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا ان لوگوں کے دماغوں پر کہ جولوگ 256