تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 255
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم - خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1967ء تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے اور اللہ تعالٰی کے اس وعدہ پر کہ وہ خود مدد کرے گا اور اس رنگ میں مدد کرے گا کہ کسی اور کی حاجت محسوس نہ ہوگی۔میں نے اس سفر کو اختیار کیا تھا۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سفر کے دوران بڑے بڑے عظیم احسان مجھ پر اور آپ پر کئے ہیں۔پہلا سلسلہ احسانوں کا تو وہ بشارتیں ہیں، جو بیسیوں کی تعداد میں جماعت کو ملیں۔بڑوں نے بھی، چھوٹوں نے بھی ، مردوں نے بھی اور عورتوں نے بھی اللہ تعالیٰ سے بشارتیں پائیں۔ان بشارتوں کا تعلق صرف میری ذات سے نہیں، ان بشارتوں کا تعلق صرف آپ میں سے بعض کی ذات سے نہیں بلکہ ان بشارتوں کا تعلق ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ ہے، جو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب ہونے والے ہیں۔تو یہ بشارتیں اللہ تعالیٰ کے احسان ہیں، جو جماعت پر بڑی کثرت سے ان دنوں میں ہوئے۔وہاں بھی ہوئے ، یہاں بھی ہوئے۔افریقہ اور دوسرے ملکوں کے رہنے والوں نے بھی مجھے اپنے رویا اور کشوف لکھے۔شروع میں ہی ایک دوست نے لکھا کہ میں نے یہ خواب دیکھی ہے کہ ایک فتنہ سا ہے، بیرونی بھی اور اندرونی بھی۔اور اندرونی فتنہ جو ان کو خواب میں دکھایا گیا تھا، یہ تھا کہ بعض لوگ آپ پر یعنی مجھے خاکسار پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ رویا اور کشوف بہت سنانے لگ گیا ہے۔جب انہوں نے اپنی یہ خواب لکھی تو میں نے اس سے دو نتیجے اخذ کئے اور میرے ذہن میں اس کی دو تعبیریں آئیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ بہت بشارتیں دے گا اور دوسرا یہ کہ مجھے اس کا اظہار کر دینا چاہئے۔کیونکہ جب تک یہ دونوں چیزیں نہ ہوتیں، معترض اعتراض نہیں کر سکتا۔اگر بشارتیں ہی نہ ہو تیں تو ان کو بتائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اعتراض کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا۔اگر بشارتیں ہوں اور خاموشی اختیار کی جائے تو کوئی شخص اعتراض نہیں کر سکتا، نہ کسی کے علم میں بات آئے گی اور نہ وہ اعتراض کرے گا۔تو یہ دو باتیں میری سمجھ میں آئیں اور اسی وجہ سے میں نے اپنی عام عادت کے خلاف واپسی پر بہت سے کشوف اور رویا، اپنے بھی اور اپنے بھائیوں اور بہنوں کے بھی مختلف خطبوں اور تقاریر میں بیان کر دیئے۔اور یہ کہہ کر بیان کئے کہ ان کو ہم تحدیث نعمت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔اور ان حاسد معترضین کو بھی موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی معترض طبیعت کو بہلا لیں، اس میں ہمارا تو کوئی حرج نہیں۔تو ایک عظیم سلسلہ بشارتوں کا اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کو ملا اور خدا جو اپنے وعدہ کا سچا ہے، جیسا کہ اس نے کہا تھا۔أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ 255