تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 231 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 231

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 08 ستمبر 1967ء اللہ تعالیٰ نے اس وقت آسمان سے کچھ ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ جن ملکوں کو میں نے دیکھا ہے اور امریکہ وغیرہ ، جن کے متعلق میں نے باتیں سنیں، اس سے میں اس یقین پر قائم ہو گیا ہوں کہ ان ملکوں میں عیسائیت ختم ہو چکی ہے۔وہ چیزیں، جو میں نے دیکھی یا وہ باتیں، جو آج خود پادری کہتے ہیں اور اخباروں میں شائع کرتے ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ عیسائیت یقینی طور پر مٹ چکی ہے۔ان کا ذکر تفصیل کے ساتھ تو انشاء اللہ کسی اور موقع پر بیان کروں گا۔یا رسالے یا دو ورقوں کی شکل میں احمدیوں کے سامنے بھی اور دیگر مسلمان بھائیوں کے سامنے بھی آجائیں گی اور عیسائیوں کے سامنے بھی آجائیں گی۔ان کے اپنے مونہوں سے نکلی ہوئی باتیں، جو ثابت کرتی ہیں کہ عیسائیت ختم ہو چکی ہے، اس دنیا کے سامنے تو آچکی ہیں اور اس دنیا کے سامنے یعنی ہمارے ملکوں میں اپنے وقت پر پیش کر دی جائیں گی۔اس وقت میں یہ حقیقت بیان کرنا چاہتا ہوں کہ عیسائیت ان ملکوں میں مرچکی ہے اور ایک خلاء پیدا ہو گیا ہے۔اس خلا کو پر کرنا، اسلام کے غلبہ کے لئے وہاں کوشش کرنا ، یہ ہمارا کام ہے۔کیونکہ اس خلا کو سوائے اسلام کے اور کوئی مذہب پر نہیں کر سکتا۔اور اگر ایک ظلمت دور ہو اور اس کی جگہ ایک دوسری ظلمت لے لے تو اس سے انسانیت کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ اگر انسان نے ابدی صداقتوں سے استفادہ کرنا ہے تو یہ ضروری ہے کہ جھوٹ کی جگہ سیچ لے۔یہ ضروری ہے کہ اندھیرے کی جگہ روشنی ہے۔یہ ضروری ہے کہ ظلمت کی جگہ نور لے۔یہ ضروری ہے کہ بتوں کی محبت کی جگہ خدا تعالیٰ کی محبت قائم ہو۔اور یہ سوائے اسلام کے نہیں ہو سکتا۔اور یہ جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جماعت کے قیام کی غرض ہی یہ ہے کہ گمشدہ معرفت کو دنیا میں پھر سے قائم کیا جائے۔تو ہم پر بڑی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان ممالک میں جو خلا پیدا ہو رہا ہے، اس خلا کو اسلام کے نور سے، اس خلا کو قرآن کریم کے دلائل و براہین سے، اس خلا کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے پر کر دیں۔تا شیطان پھر کبھی ان فضاؤں میں داخل ہونے کی جرات نہ کر سکے۔اس ذمہ داری کو نباہنے کے لئے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم خود تو حید کے ایک اعلیٰ اور ارفع مقام پر قائم ہوں۔ضروری ہے کہ ہم خود معرفت اور عرفان کے یقینی مقام پر قائم ہوں۔یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے نفسوں میں اللہ تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرنے والے ہوں۔یہ ضروری ہے کہ ہم قرآن کریم کے علوم سے اچھی طرح واقف ہوں کہ اس کے بغیر ہم اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نباہ نہیں سکتے۔ان ذمہ داریوں کو نباہنے کے قابل بننا ہمارے لئے ضروری ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ محض زبان کے دعوؤں کو پسند نہیں کرتا۔231