تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 230 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 230

خطبہ جمعہ فرموده 08 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم مستورات مدعو نہ تھیں، اس لئے صدر لجنہ اماءاللہ امریکہ س میں شامل نہ ہوسکتی تھیں۔ایک دن جمعرات کو مجھے کہنے لگیں کہ کئی دن سے ہم آئے ہوئے ہیں، تقاریر میں شامل ہوتے ہیں لیکن ہم نے انگریزی زبان میں کوئی چیز نہیں سنی کہ ہم کچھ تو اپنے ملک میں لے کر جائیں۔کل کے خطبہ میں آپ کچھ انگریزی میں بھی کہیں۔چنانچہ ان کی اس خواہش اور ضرورت کو دیکھتے ہوئے اور یہ سوچ کر کہ بہت سے اور دوست بھی ہوں گے یہاں، جو باہر سے آئے ہیں اور بڑی محبت اور پیار سے آئے ہیں۔ایسی زبان میں بھی بات کرنی چاہیے کہ وہ سمجھ سکیں اور ان کے دلوں کو تسلی ہو سکے۔میں نے وہ خطبہ سارا انگریزی میں دیا تھا۔اور بتانے والوں نے مجھے بتایا کہ سارے خطبہ کے دوران اس بہن کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔اس کے بعد وہ مجھے ملیں ، گھنٹہ ، سوا گھنٹہ میں نے ان دو بہنوں کو وقت دیا ، جو امریکہ سے آئی ہوئی تھی۔مختلف مسائل ان کو سمجھائے۔بعض انتظامی معاملات کے متعلق انہوں نے بعض باتیں مجھے بتا ئیں اور ان کا حل میں نے انہیں بتایا۔اس وقت بھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کے جسم کا ذرہ ذرہ اپنے اللہ پر فدا ہونے کے لئے تیار ہے۔اس قسم کا اخلاص ان لوگوں میں پیدا ہو چکا ہے۔اس طرح جو ماریشس سے آئے ہوئے تھے، ان کی بھی یہی حالت تھی۔نائیجیریا کے مقامی دوست ، جو وہاں پہنچے تھے ، ان میں سے ایک وہ ہیں، جو طلباء کی فیڈ ریشن کے وائس پریذیڈنٹ یعنی نائب صدر ہیں۔ان کے صدر بھی احمدی ہیں۔لیکن ایک چھوٹا سا حصہ کسی وقت آج سے کافی عرصہ ( حضرت مصلح موعودؓ کے عہد خلافت کی بات ہے ) علیحدہ ہو گیا تھا۔لیکن علیحدہ ہونے کے باوجود اپنے عقائد میں وہ پختہ ہیں۔انتظام میں وہ علیحدہ ہو گیا۔ان کے ساتھ یہ نوجوان جا شامل ہوا۔میں نے اس کو کہا (نائب صدر کو ) کہ تم اپنے صدر کو اپنی طرف کھینچو، اس کو سمجھاؤ مسائل۔کہنے لگا، میں نے ان سے بہت باتیں کی ہیں۔وہ یہ کہتے ہیں کہ بس مجھے پتہ نہیں کیا ہوا، عدم علم کی بنا پر میں ان کے ساتھ شامل ہو گیا ہوں۔اب حقیقت مجھ پر ظاہر ہوگئی ہے، اب آہستہ آہستہ انہیں چھوڑ کے جو چیز حقیقی احمدیت اور اسلام ہے، اس کی طرف واپس لوٹ آؤں گا۔تو ان نوجوانوں کے دل میں بھی محبت ہے، اسلام اور احمدیت کی۔اور ان کے ذہنوں میں نور ہے۔اسلام کے دلائل اور براہین عقل میں جونور پیدا کرتے ہیں، وہ نور ان کی عقلوں میں ہے۔اور خدا اور رسول کے لئے محبت کے، جو جذبات ایک مسلمان کے دل میں پیدا ہو سکتے ہیں، وہ جذبات ان لوگوں کے ولوں میں ہیں۔بڑی ہی مخلص جماعتیں وہاں پیدا ہو چکی ہیں۔230