تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 226 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 226

تقریر فرموده 05 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم مثال تمہارے سامنے رکھتا ہوں۔ویسے اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں مرد اور عورتیں اور بچے جماعت میں ایسے ہیں، جن کی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔اور پچھلی پیشگوئیوں میں بھی یہ بیان کیا گیا تھا کہ اس زمانہ میں بچے نبوت کریں گے۔اور ہم نے خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بچوں کو بھی ایسی خوش خبریاں دیتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔بعض اوقات بعض احمدی بھائی مجھے ملتے ہیں اور وہ اپنا کوئی رویا بھی مجھے سنا دیتے ہیں۔وہ اس رؤیا کو خود تو نہیں سمجھ سکتے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے مجھے بشارت دی ہے یا ہدایت دی ہے۔میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔مغربی افریقہ کے ایک دوست نے ایک خواب دیکھی، جس کا تعلق مشرقی افریقہ سے تھا۔یعنی اس خواب کا تعلق ایک ایسے ملک سے تھا، جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ بہت پریشان تھے۔جب وہ خواب مجھے پہنچی تو مجھے اس خواب کی تعبیر کا علم تھا۔ایک شخص کے متعلق میں سوچ رہا تھا کہ اسے مشرقی افریقہ بھجوا دیا جائے۔اور اس خواب میں یہ بتایا گیا تھا کہ اسے وہاں نہ بھجواؤ۔حالانکہ میرے اس ارادہ کا علم میرے سوا اور بعض دوسرے متعلق افراد کے سوا کسی کو نہیں تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق مغربی افریقہ کے ایک دوست کو اطلاع دی اور اس نے پھر مجھے لکھ دیا۔پس بعض دفعہ ایسی خواہیں بھی آجاتی ہیں اور دوست وہ خواہیں مجھے لکھ دیتے ہیں۔میری اپنی ایک بچی نے ایسا خواب دیکھا، جو وہ خود نہیں سمجھ سکتی تھی۔اس خواب کے پانچ جزو تھے اور ان میں سے ہر جز و مبشر تھا۔اس نے گھبرا کر مجھے لکھا کہ میں تو اس خواب کی وجہ سے رات کو سوتی بھی نہیں، مجھے نیند نہیں آتی۔میں نے اس کو لکھا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، یہ تو بڑی اچھی خواب ہے۔اور اس کے ہر جزو کی تعبیر بڑی مبشر ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے جماعت پر اس قدر فضل کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمت کو دیکھ کر ہر احمدی کا سر اپنے رب کے حضور ہر وقت جھکا رہنا چاہیے۔اور اسے یقین ہونا چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں، اس میں کوئی خوبی نہیں، کوئی مہارت نہیں۔اس نے ہر چیز اپنے رب سے لینی ہے۔اور ایسا شخص دنیا کی کسی طاقت سے نہیں ڈرتا، دنیا کی کسی دولت سے وہ مرعوب نہیں ہوتا۔دنیا کا کوئی علم اسے اپنی نظروں میں ذلیل اور حقیر نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس کے مقابلہ میں اسے جو کچھ ملنا ہے، وہ اسی ہستی سے ملتا ہے، جس کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی طاقت، دنیا کا کوئی علم اور دنیا کی کوئی دولت، کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔غرض بڑے فضلوں کے وارث ہیں آپ لوگ۔ہمیں اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر ہر وقت بجا 226