تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 176
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم پس رحمن کی رحمانیت نے ایک بشارت دی اور کوپن ہیگن میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے پیارے نظارے دیکھے۔اور لوگوں میں اس قدر رجوع تھا کہ وہاں بڑی تعداد میں آرہے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ ان لوگوں کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور فرشتے ان کو دھکے دے کر لا رہے ہیں۔مثلاً عیسائی بچے ، جو دس سال اور پندرہ سولہ سال کے درمیان عمر کے تھے، مسجد میں آجاتے تھے اور ہمارے ساتھ نماز میں شریک ہوتے تھے۔ان کی تعداد کوئی چالیس، پچاس ہوگی، جو مختلف وقتوں میں آئے۔پھر وہ بچے صرف فرائض میں ہی شامل نہیں ہوتے تھے کہ ہم سمجھیں کہ وہ عجوبہ سمجھ کر ایسا کرتے تھے۔بلکہ مغرب و عشاء کی نمازیں جمع ہوتیں تھیں اور بعد میں ہم وتر ادا کرتے تھے تو دس دس، بارہ بارہ سال کی بعض لڑکیاں ہماری احمدی مستورات کے ساتھ وتر بھی پڑھ کے جایا کرتی تھیں۔ایک دن ہم میں سے کسی نے انہیں کہا کہ تمہارے ماں باپ کو پتہ لگ گیا تو وہ تمہیں ماریں گے۔تو وہ کہنے لگیں نہیں، ان کو پتہ ہے کہ ہم یہاں آتی ہیں۔غرض صبح سے لے کر شام تک ایک تانتا سا بندھا رہتا تھا۔لوگ آرہے ہیں، مسجد دیکھنے کے لئے اور واپس جارہے ہیں۔ایک دن چوہدری محمد علی صاحب کی آنکھ رات کے ڈیڑھ بجے کھلی اور وہ اپنے کمرہ سے باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد کی تصویر لے رہا ہے۔رات کے ڈیڑھ بجے وہ مسجد کی تصویر لے رہا تھا۔پھر آج کل ڈنمارک میں باہر کے سیاح بہت بڑی تعداد میں آئے ہوئے تھے۔یہی موسم ہے سیر کا۔وہاں سال میں صرف ایک دو ماہ ایسے ہوتے ہیں، جن میں لوگ سیاحت کے لئے نکلتے ہیں۔پھر موسم خراب ہو جاتا ہے، جھکڑ اور سرد ہوائیں چلتی ہیں۔سیروسیاحت کے ان مہینوں میں وہاں بعض کارخانے بند ہو جاتے ہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ بعض کو چھٹی دے دی اور بعض کو نہ دی۔بلکہ کچھ عرصہ کے لئے کارخانہ ہی بند کر دیا جاتا ہے اور ملازموں سے کہا جاتا ہے کہ جاؤ، سیر کرو۔ہماری طرف سے تمہیں چھٹی ہے۔اور چونکہ ان ملکوں میں سیر وسیاحت کا زمانہ زیادہ لمبا نہیں ہوتا، اس لئے لوگ ان دنوں میں بڑی کثرت سے سیر و سیاحت کے لئے باہر نکلتے ہیں۔غرض جو لوگ سیاحت کی غرض سے وہاں آئے ہوئے تھے، وہ بھی بڑی کثرت سے مسجد دیکھنے آئے۔ہمارا جو مشن ہاؤس ہے یعنی مبلغ کے رہنے کا جو گھر ہے، اس کے دروازے اور مسجد کے دروازے میں تمھیں، چالیس فٹ کا فاصلہ ہے۔وہاں دراصل ایک میٹنگ روم بنانے کے لئے نقشہ دیا گیا ہے لیکن ابھی اس پر چھت ڈالنے کے لئے کارپوریشن کی طرف سے اجازت نہیں ملی۔اس وقت وہ جگہ ایک صحن کی شکل میں ہے۔جمعہ کے روز افتتاح کے وقت لوگ اتنی کثرت سے آئے کہ جب میں گھر سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ لوگ کثرت سے آئے ہوئے ہیں اور کندھا سے 176