تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 142 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 142

خلاصہ خطاب فرمودہ 04 جولائی 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کو اس قدر بشارتیں عطا کی ہیں کہ جب ہم ان کو پڑھتے ہیں اور پھر اپنی کوشش اور جدو جہد کو دیکھتے ہیں تو ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ ہم جیسے بے مایہ انسانوں کو اتنی بشارتیں کیسے مل گئیں ؟ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے قربانی لینا چاہتا ہے۔اسلام کا غلبہ ہم سے ایک موت نہیں ہزاروں موتوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ہمیں چاہیے کہ اپنی جان، وقت، اولاد، جذبات اور دنیوی تعلقات کو اس کے حضور پیش کریں اور کوئی کام ایسانہ کریں، جو اس کی نارضامندی کا موجب ہو۔اللہ کی ناراضگی سے ہم زبانی دعوے سے نہیں بچ سکتے۔اگر ان پیاری بشارتوں کا مستحق بنتا ہے تو جس طرح ہماری زبان دعوے کرتی ہے ، ہمارے عمل بھی اس کی محبت سے معمور ہونے چاہیں۔اگر دنیا کی ساری عزتیں ، اموال اور رشتہ داریاں ہم قربان کرنے کے لیے تیار ہوں تو یقینا اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوں گے۔ނ بعض بہنوں نے بڑی قربانی کی ہے۔اور بعضوں نے بڑا نیک نمونہ پیش کیا ہے۔ہم میں ہر ایک کو اعلیٰ قربانی کے مقام کو حاصل کرنا چاہیے۔خدا کو پیار کرنے والے دل اور عمل کرنے والے ہاتھ خوش کرتے ہیں۔قربانیاں دیں اور قربانیوں میں ترقی کرتی چلی جائیں۔اور دعا کرتی ر ہیں کہ اے خدا! ہم نے اپنی بساط کے مطابق یہ حقیر نذرانے پیش کیے ہیں تو ان کو قبول فرما اور ہمیں وہ نعماء حاصل ہو جائیں ، جن کا تو نے وعدہ فرمایا ہے۔پس میرا یہ حق ہے آپ پر کہ آپ میرے لیے دعائیں کریں، جس طرح آپ کا حق ہے کہ میں آپ کے لیے دعا کروں۔تفصیل میں، میں اس لیے گیا ہوں تا کہ آپ کو احساس ہو کہ میرا یہ سفر بڑا ہی اہم ہے۔میں اہل یورپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے لیے اب تباہی سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے، وہ یہ کہ وہ اپنے خدا کو پہچانیں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹھنڈی چھاؤں تلے جمع ہو جائیں۔آپ یہ بھی دعا کریں کہ ان باتوں کو میں احسن طور پر وہاں پیش کرسکوں۔تا بیچنے والے بچ جائیں اور جو تباہ ہونے والے ہوں ، وہ دوسروں کے لیے عبرت بنیں۔اور دنیا کو پتہ لگ جائے کہ ایک زندہ اور قادر مطلق خدا موجود ہے۔ہر چیز اس کے علم میں ہے۔دنیا اور انسان کی ہمدردی کی خاطر وہ وقوع سے قبل یہ باتیں بتا دیتا ہے۔تالوگ اس کی طرف رجوع کریں اور اس کے غضب سے بچ جائیں۔آپ یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میری زبان میں اثر پیدا کرے۔تا ان کے دل صداقت کو قبول کریں اور وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کی بجائے رحمت کو پانے والے ہوں۔اسلام کے غلبہ کا دن نزدیک تر ہو۔اور ہم اپنی زندگیوں میں ان بشارتوں کو پالیں ، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی تھیں۔( مطبوعه روزنامه الفضل 11 جولائی 1967ء) 142