تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 136
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 جون 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم سال سے کفر اور شرک کے اندھیروں میں بھٹکتی پھر رہی ہیں۔اور انسانیت کے محسن اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ان کے دلوں میں قائم ہو جائے۔تاکہ وہ ابدی زندگی اور ابدی حیات کے وارث ہونے والے گروہ میں شامل ہو جائیں، تا ان کی بدبختی دور ہو جائے، تا شیطان کی لعنت سے وہ چھٹکارا پا لیں ، تا شرک کی نحوست سے وہ آزاد ہو جائیں ، تابد رسوم کی قیود سے وہ باہر نکالے جائیں اور خدا تعالیٰ کی رحمت اور اس کی محبت اور اس کے حسن اور اس کے احسان اور اس کے نور کے جلوے وہ دیکھنے لگیں، تا وہ وعدہ پورا ہو، جو حمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے دیا تھا کہ میں تیرے فرزند جلیل کے ذریعہ سے تمام قوموں کو تیرے پاؤں کے پاس لا جمع کروں گا، تاوہ دل، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے نا آشنا ہیں اور وہ زبانیں، جو آج آپ پر طعن کر رہی ہیں، وہ دل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے بھر جائیں اور ان زبانوں پر درود جاری ہو جائے۔اور تمام ملکوں کی فضا نعرہ ہائے تکبیر اور درود سے گونجنے لگے اور وہ فیصلے جو آسمان پر ہو چکے ہیں، زمین پر جاری ہو جائیں۔پس میری درخواست ہے، تمام احباب جماعت سے، اپنے بھائیوں سے بھی اور بہنوں سے بھی، بڑوں سے بھی اور چھوٹے بچوں سے بھی کہ وہ ان دنوں خاص طور پر دعا کریں کہ اگر یہ سفر مقدر ہو تو اللہ تعالیٰ پوری طرح اسے بابرکت کر دے اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اسلام کو اس سفر کے ذریعہ سے ہو۔اور اس عاجز اور کم مایہ انسان کی زبان میں ایسی برکت اور تاثیر رکھے کہ خدا کی توحید کے جو بول میں وہاں بولوں ، وہ لوگوں کے دلوں پر اثر کرنے والے ہوں۔اور میری ہر حرکت اور سکون کا اثر ان کے اوپر ہو۔اور ان کے دل اپنے رب کی طرف اور قرآن کریم کی طرف اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اسلام کی طرف متوجہ ہونے لگیں۔اور غفلت کے جو پردے ان کی آنکھوں اور ان کے دلوں اور ان کی عقلوں پر پڑے ہوئے ہیں ، خدا ان پردوں کو اٹھا دے۔اور خدا کا حسن اور اس کا جلال نمایاں ہو کر ان کی آنکھوں کے سامنے ، بصارت اور بصیرت کے سامنے چمکنے لگے۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسین چہرہ ان کے سامنے کچھ اس شان کے ساتھ ظاہر ہو جائے کہ وہ تمام دوسرے حسنوں کو بھول جائیں اور اسی کے ہوکر رہ جائیں۔پس بہت دعائیں کریں، بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالی اس سفر کو مبارک کرے۔"۔۔۔بہر حال میں درخواست کرتا ہوں آپ سب سے بھائیوں سے بھی، بہنوں سے بھی، بڑوں سے بھی اور چھوٹوں سے بھی کہ ان ایام میں خاص طور پر بہت دعائیں کریں۔ایک یہ کہ اگر یہ سفر خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے اظہار کا موجب بنتا ہو اور اسلام کی شوکت اس سے ظاہر ہونی ہو تبھی مجھے اس 136