تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 132
خطاب فرمودہ 13 اپریل 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم یا آٹے کی اس بوری کی طرح، جس میں اس وقت تک برکت رہی ، جب تک بدظنی کے نتیجہ میں گھر والوں نے اسے تول نہ لیا۔اور برکت جاتی رہی۔یا تھوڑا سا کھانا تھا لیکن کھانے والے بہت زیادہ تھے، اللہ تعالیٰ نے اس کھانا میں برکت ڈال دی، سب نے کھانا کھا لیا لیکن وہ پھر بھی بچ گیا۔یا اس دودھ کے پیالے کی طرح، جو خدا تعالی کی طرف سے آپ کو سیر کرنے کے لئے دیا تھا۔( گواس پیالہ کا بھیجنے والا تو ایک انسان ہی تھا لیکن وہ اللہ کے منشاء کے تحت آیا تھا۔) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجلس کے ہر ایک آدمی کو کہا ، پہلے تم اس سے سیر ہو کر پی لو، پھر میں اس سے پیوں گا۔کیونکہ آپ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ میں سیر ہو جاؤں۔چاہے سارے لوگ سیر ہو کر اس سے دودھ پی لیں ، دودھ ختم نہیں ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔وہ خدا جس کے قبضہ قدرت میں یہ ساری باتیں ہیں۔وہ ویسا ہی آج بھی قدرت والا خدا ہے۔اور ہر واقف زندگی اس بات کو سمجھتا ہے۔ہماری جماعت میں بہت سے ایسے ہیں، جو خدا تعالیٰ کی برکتوں کو اپنی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں۔اور جن کا رب رزاق سے تعلق ہے۔پھر ایک واقف زندگی یہ یقین رکھتا ہے کہ حقیقی شافی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔جس وقت وہ یا اس کا کوئی ایسا عزیز ، جس کے اخراجات کا بار اس پر ہے، بیمار ہو جاتا ہے تو اسے اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ نظام سلسلہ یا اس کے اپنے وسائل مہنگی دوا کے متحمل نہیں ہو سکتے۔بلکہ وہ جانتا ہے کہ شفاد بینا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔جب وہ شفا دینے پر آئے تو وہ مٹی کی ایک چٹکی میں شفا رکھ دیتا ہے۔اور جب تک شفا کا حکم آسمان سے نازل نہ ہو تو ماہر ڈاکٹر اور بہترین ادویہ بھی کسی کو شفا نہیں دے سکتیں۔ایسے نظارے جیسے پہلوں نے دیکھے ہیں ، ہماری جماعت نے بھی دیکھے ہیں۔غرض ایک واقف زندگی خدا تعالیٰ کی صفات پر یقین رکھتے ہوئے، حقیقی تو کل اپنے رب پر کرنے والا ہوتا ہے۔اور خدا تعالی کے سوا کسی حالت میں اور کسی ضرورت کے وقت وہ کسی اور کی طرف نہیں جھکتا۔اگر جامعہ احمدیہ میں پڑھنے والے اور اس سے فارغ ہونے والے اس قسم کے واقف نکلیں تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ بہت جلد خدا تعالیٰ وہ عظیم انقلاب پیدا کر دے گا، جس عظیم انقلاب کے پیدا کرنے کے لئے اس نے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے۔جیسا کہ میں نے شروع ہی میں بتایا تھا کہ اس وقت میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔میں مختصر الفاظ میں اس ذمہ داری کی طرف اپنے عزیز بچوں کی توجہ مبذول کرانا چاہتا تھا۔سو میں نے کوشش کی ہے کہ ایسا کروں۔لیکن زبان میں اثر ڈالنا بھی خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے۔132