تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 131
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطاب فرمودہ 13 اپریل 1967 ء حقیقی واقف زندگی وہ ہے، جو ہر حالت میں اپنے رب پر تو کل کرے خطاب فرمودہ 13 اپریل 1967 ء تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، اس لئے اس وقت میں مختصراً اپنے عزیز بچوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ، وہ نوجوان یا بڑی عمر کے مرد یا عورتیں، جو خدا تعالیٰ کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں، وہ اس معنی میں اپنی زندگیاں وقف کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں۔اِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ط دنیا میں اگر کوئی شخص حقیقی عزت پاسکتا ہے تو محض اپنے رب سے ہی پاسکتا ہے۔اس لئے اگر ساری دنیا ان کی بے عزتی کے لئے کھڑی ہو جائے اور انہیں برا بھلا کہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اور وہ عزت کی جگہوں کو خود تلاش نہیں کرتے۔نہ عزت واحترام کے فقروں کو سننے کی خواہش ان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔بلکہ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ اپنے رب کی نگاہ میں عزت حاصل کرلیں۔اگر ان کا دل اللہ تعالیٰ کے بتانے پر یا اس کے سلوک کی وجہ سے یہ سمجھ لے کہ ہم خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہر دلعزیز ہیں تو وہ ان ساری عزتوں کو ، جود نیوی ہیں، ٹھکرا دیتے ہیں اور ان سے خوشی محسوس نہیں کرتے۔کیونکہ حقیقی خوشی انہیں حاصل ہو جاتی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرنے والے یہ جانتے ہیں کہ حقیقی رزاق اللہ تعالی ہی کی ذات ہے۔اس لئے دنیا کے اموال کی طرف ان کی توجہ نہیں ہوتی۔نہ وہ اس بات کے پیچھے پڑتے ہیں کہ انہیں دنیا کے رزق دیئے جائیں۔نہ وہ اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے گزاروں میں ایزدی کی جائے۔کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حقیقی رزاق اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔اور وہ اب بھی اپنے بندوں کے لئے اسی طرح معجزے دکھاتا رہتا ہے، جیسا کہ اس نے اپنے اور ہمارے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائے کہ پانی کو ہوا میں پیدا کر دیا اور لوگوں نے یہ نظارہ دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں سے پانی بہہ رہا ہے۔انگلی تو ایک پردہ تھی، قدرت خداوندی کے نظارہ کو دیکھنے کے لئے۔131