تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 112
ارشادات فرمودہ 27 مارچ 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم پارسل کر کے بھجوا دیں، میں انہیں یہاں طبع کروا کے آپ کو بھجوادوں گا۔چنانچہ ہوائی ڈاک کے ذریعہ ان مسودوں کا پارسل پہنچ گیا ہے۔اور اب ہم ان کے متعلق سیکم بنارہے ہیں۔سواحیلی زبان کے حروف بھی چونکہ انگریزی زبان کے ہی حروف تہجی ہیں، اس لئے یہاں ان کی اشاعت میں کوئی دقت نہیں ہوگی۔یہاں ربوہ میں پہلے بھی سواحیلمی زبان میں ایک کتاب چھپ چکی ہے۔اب ہم مشورہ کریں گے کہ آیا انہیں ان کے بلاک بنوا کر بھجوا دئیے جائیں کہ وہ خود حسب ضرورت اور حسب منشاء وہاں طبع کروالیں یا ہم خودان کتب کو چھپوا لیں اور افریقن ممالک میں انہیں بھجوا دیں۔اب یہ صرف ایک زبان کے متعلق بیان کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اور زبانیں بھی ہیں۔تو ہمیں، جو مرکز میں بیٹھے ہیں، اس طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دینا چاہیے اور جماعت کو بھی توجہ دینی چاہیے۔اور ہر قسم کی تجاویز سوچتے رہنا چاہئے۔پھر جو اچھی تجاویز ذہن میں آئیں ، وہ مجھے بھیجیں۔بلکہ پچھلے چند مہینوں سے میرا یہ تاثر ہے کہ بعض احباب جو تجاویز ہمارے پاس بھیجتے ہیں، وہ ان تجویزوں سے کہیں زیادہ اچھی ہوتی ہیں، جو مجلس مشاورت میں پیش ہونے کے لئے آتی ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنی ذمہ داری کو سجھتا ہے، بات کے ہر پہلو کو دیکھتا ہے اور اس پر غور کرتا ہے اور پھر جو تجویز اس کے ذہن میں پک جاتی ہے اور پوری نشو و نما حاصل کر لیتی ہے، اسے وہ ہمارے پاس بھیجتا ہے۔بدقسمتی سے شوریٰ میں تجاویز پیش کرنے کے لئے بالعموم دوست یہ کرتے ہیں کہ جب وقت آیا ، میٹنگ کی اور کوئی نہ کوئی تجویز بھیج دی۔اب اس تجویز پر کوئی غور وفکر نہیں ہوتا اور وہ ہمارے پاس بھیج دی جاتی ہے۔بعض دوست تو پورا علم بھی حاصل نہیں کرتے اور تجویز بھیج دیتے ہیں۔انہیں موجودہ حالات اور موجودہ قواعد کاعلم بھی نہیں ہوتا اور بغیر سوچے سمجھے، وہ ایک تجویز بھیج دیتے ہیں۔اس طرح وہ تجویز محض وقت ضائع کرنے والی ہوتی ہے۔میں سوچ رہا ہوں کہ شوریٰ کی تجاویز کے متعلق بھی کوئی ایسی صورت اختیار کی جائے کہ جماعتوں کو ان پر لمباغور کرنے کا موقع ملے اور پھر جو تجویز پوری طرح پختہ ہو جائے ، وہ شوریٰ میں آئے۔اور جو تجویز نیم پختہ یا بالکل ابتدائی شکل میں ہو ، وہ یہاں نہ آئے۔قرآن کریم کے متعلق میں خود بھی سوچ رہا تھا اور بعض دوستوں نے بھی خطوط بھجوائے کہ اس اس طرح کام کرنا چاہیے۔یہ تجویز ، جو آپ بحث میں لا رہے ہیں، یہ شوری کے ایجنڈا میں نہیں آئی۔کیونکہ شوری کا ایجنڈا ایک اور طریق پر مرتب کیا جاتا ہے اور اس میں پختگی نہیں ہوتی۔حالانکہ بعض دوست خوب محنت ، سوچ بچار اور غور وفکر کے بعد بڑی اچھی تجاویز بھیجتے ہیں۔دوست وہ بھی کریں اور شوریٰ کی تجاویز 112