تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 101 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 101

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 11 نومبر 1966ء وو زندہ خدا، زندہ رسول اور زندہ کتاب خطبہ جمعہ فرمودہ 11 نومبر 1966ء " ہم نے جس ہستی کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی اور سلسلہ احمدیہ کو قبول کیا ، وہ کوئی معمولی ہستی نہیں تھی۔بلکہ اس کا مقام وہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے روحانی فرزندوں میں سے صرف اس کو اپنا سلام بھیجا۔اور اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ یہ بات تمام دنیا پر ظاہر کی کہ جو شخص ہمارے اس مرسل حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں فرق کرے گا، اس شخص نے اس مقام کو نہیں پہچانا ، جس مقام پر کہ اللہ تعالیٰ نے فنافی الرسول ہو جانے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں گم ہو جانے کی وجہ سے اس پاک وجود کو کھڑا کیا ہے۔پھر یہ صرف اعزازی مقام نہ تھا بلکہ حقیقتا یہ مقام آپ کو اس وجہ سے ملا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لئے تو فیق عطا فرمائی کہ آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق میں فنا ہو کر اپنے وجود کو کلیۂ غائب کر دیں۔) کہ اللہ تعالیٰ آپ سے وہ کام لینا چاہتا تھا، جو اسلام کی نشاۃ اولی میں اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا تھا۔قرآن کریم سے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور پیشگوئیوں سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو دو ترقیاں حاصل ہوئی تھیں۔جس کا مطلب یہ تھا کہ اسلام کو تنزل کے ایک دور میں سے بھی گزرنا تھا۔کیونکہ اگر تنزل کا دور مقدر نہ ہوتا تو دو ترقیوں کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔پھر ایک ہی ترقی اسلام کو حاصل ہوتی۔ہم اس حقیقت کو اپنے عام محاورہ میں اسلام کی نشاۃ اولی اور نشاۃ ثانیہ کے الفاظ سے بیان کرتے ہیں۔پہلی ترقی اس زمانہ کے لحاظ سے اس طرح ظہور پذیر ہوئی کہ دشمن نے ، جو اس زمانہ میں علم میں اتنا ترقی یافتہ نہیں تھا بلکہ عام طور پر جہالت کا ہی دور دورہ تھا، خواہ اس زمانہ کے لوگ اہل کتاب ہوں، مشرکین ہوں، خواہ بد مذہب ہوں ، انہیں مذہبی لحاظ سے دیکھا جائے یا دنیوی لحاظ سے ، عمو م وہ علم سے محروم تھے، اس لئے جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور قرآن کریم جیسی عظیم کتاب آپ پر نازل کی تو ان اقوام نے ، جو دنیا کے مختلف مذہبی فرقوں میں بٹی ہوئی تھیں، جہاں جہاں اسلام پہنچا یہ سمجھا کہ ہم اپنی طاقت کے بل پر اسلام کو مٹا کر رکھ دیں گئے“۔101