تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 689 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 689

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اگست 1958ء تھوڑے عرصہ میں ہی ہماری جماعت کی تعداد دو کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔بے شک لوگ تمہیں غیروں کو تبلیغ کرنے سے روک سکتے ہیں۔لیکن کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ اپنی بیوی کو یا اپنے خسر کو یا اپنے سالے کو تبلیغ نہ کر و؟ اگر تم کسی غیر کوتبلیغ کرو تو ممکن ہے کہ وہ تمہیں مارنے پیٹنے لگ جائے لیکن تمہارا اپنا باپ تمہیں نہیں مارے گا، تمہارا بیٹا تمہیں نہیں مارے گا، تمہارا خسر تمہیں نہیں مارے گا اور تم میں سے ایک، ایک شخص شخص کے پچاس پچاس رشتہ دار ہوں اور ہماری جماعت دس لاکھ ہو تو پھر تو تھوڑے عرصہ کی جدو جہد کے نتیجہ میں ہی ہماری جماعت کی تعداد خدا تعالیٰ کے فضل سے پانچ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔اور اگر ہم پانچ کروڑ ہو جائیں تو پھر مخالفت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔لوگ خود بخود ہماری طاقت کو تسلیم کرنے لگ جائیں گے۔اور پھر دوسرے ملکوں پر اثر ڈال کر پانچ کروڑ سے دس کروڑ تک تعداد پہنچ سکتی ہے۔اور ملایا اور انڈونیشیا وغیرہ پر اثر ڈال کر تو یہ تعداد اور بھی بڑھ سکتی ہے۔اب بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہماری جماعت کی ترقی کے سامان پیدا کر رہا ہے۔چنانچہ فلپائن میں، ڈچ گیانا میں، فرنچ گیا نا میں اور برٹش گیا تا میں ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے سرعت سے پھیل رہی ہے اور وہاں ہماری تبلیغ پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرتا۔یہ مخالفت کا جوش صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے ، ورنہ امریکہ میں یا انگلینڈ میں یا جرمنی میں یا سوئٹزرلینڈ میں یا فرانس میں یا سپین میں یا ٹرینی ڈاڈ میں یا ڈچ گیانا میں یا برٹش گیانا میں یا فرنچ گیا نا میں جب ہم غیر مسلموں کو تبلیغ کرتے ہیں تو وہاں کے مسلمان اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ہم ان کے ملک میں اسلام پھیلا رہے ہیں۔بلکہ انڈونیشیا کے لوگوں کی تو یہ حالت ہے کہ 53ء میں جب ہماری جماعت کے خلاف یہاں فسادات ہوئے تو انڈونیشیا نے اس کے خلاف حکومت پاکستان کے پاس احتجاج کیا۔جس کے متعلق انکوائری کمیشن کے موقع پر مولویوں نے کہا کہ اصل میں وہ ایک احمدی ایمبیسیڈرتھا ، جس نے حکومت پاکستان کے پاس پروٹسٹ کیا تھا۔لیکن خواجہ ناظم الدین صاحب نے اپنی گواہی کو تسلیم کیا کہ وہاں کی ایک مشہور سیاسی پارٹی کے لیڈر نے اس بارہ میں ہمارے پاس احتجاج کیا تھا۔اور گو وہ متعصب آدمی ہے لیکن جب وہاں ان فسادات کی خبریں پہنچیں تو اس نے حکومت پاکستان کو لکھا کہ مذہب کے معاملہ میں لوگوں کو جبر سے کام نہیں لینا چاہئے۔اسی طرح ہماری جماعت کے دوست اس سے ملنے گئے تو وہ کہنے لگا کہ میرے پاس تو آپ کی جماعت کا سارا لٹریچر موجود ہے۔ڈاکٹر سکار نو نے بھی احمدیوں کی تعریف کی اور جب مولویوں نے اس پر اعتراض کیا تو اس نے کہا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ میں کسی اسلامی حکومت کا پریذیڈنٹ رہنے کے قابل ہی نہیں ہوسکتا ، جب تک کہ میں جماعت احمدیہ کا لٹریچر نہ پڑھ لوں۔کیونکہ اسلام کی خوبیاں مجھے صرف اس جماعت کے 689