تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 673 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 673

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد سوم خطاب فرموده 26 اکتوبر 1957ء سیکھ کا چندہ پچھلے سال کے چندہ سے بھی زیادہ ہو جائے۔اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے سارے یورپ میں مساجد بناسکیں اور افریقہ اور انڈونیشیا وغیرہ میں بھی اپنے مبلغ بڑھا سکیں۔یہی ذریعہ ہماری کامیابی کا ہے۔اس وقت غیر فرقوں پر اگر ہمیں کوئی فضیلت حاصل ہے تو یہی ہے کہ ہمارے مبلغ غیر ملکوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کے نہیں پائے جاتے۔اس کا اتنا اثر ہے کہ پرسوں مجھے کو یت سے ایک جرمن کا خط ملا۔اس نے لکھا ہے کہ میں دیر سے اسلام کی طرف مائل ہوں لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں اسلام کی تعلیم کہاں سے حاصل کروں؟ یہاں ایک موسیٰ نامی شخص ہیں۔(ابو موسیٰ کوئی غیر احمدی ہیں، غالباً بمبئی کی طرف کے ہیں، کیونکہ اس علاقہ میں ایسے نام رکھے جاتے ہیں۔) ان کو پتہ لگا کہ مجھے اسلام کی طرف رغبت ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر تو اسلام سیکھنا چاہتا ہے تو ربوہ چلا جا۔اور تو کہیں نہیں سیکھ سکتا۔پس میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے لئے کوئی انتظام کریں۔مجھ سے موسیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ خرچ میں دوں گا۔میں نے اسے لکھا ہے کہ خرچ کا سوال نہیں۔ہمیں صرف یہ ضرورت ہے کہ تم اپنی طبیعت کو کم خرچ کرنے کی عادت ڈالو۔کیونکہ وہی مبلغ کامیاب ہو سکتا ہے، جسے کم خرچ کرنے کی عادت ہو۔مسٹر کنزے یہاں سے تعلیم حاصل کر کے گئے ہیں۔اور اب وہ شکا گوامریکہ میں ہمارے مبلغ ہیں۔ان کو ہم جو گزارہ دیتے تھے، تم بھی اگر آؤ تو وہی وظیفہ ہم تمہیں دے دیں گے۔اپنے لڑکوں کو ہم چالیس روپے دیتے ہیں اور دوسروں کو ساٹھ۔اسی طریق کے مطابق اگر تم گزارہ کر سکوتو یہاں آ جاؤ تعلیم حاصل کر کے چلے جانا اور اپنے ملک میں تبلیغ کرنا۔ہمیں موسیٰ کے روپیہ کی ضرورت نہیں ، ہم خود تم کو وظیفہ دینے کے لئے تیار ہیں۔لیکن اگر تم یہ کہو کہ میرا چھ ہزار روپیہ میں گزارہ ہوتا ہے تو اس کی ہمیں توفیق نہیں۔کیونکہ ہم نے تو باہر سے کئی لوگوں کو بلوا کر انہیں تعلیم دلانی ہے۔اگر ہم پچاس آدمی بھی منگوائیں اور چھ ہزار روپیہ ماہوار ہر ایک کا خرچ دیں تو تین لاکھ روپیہ بن جاتا ہے اور اس کی ہمیں توفیق نہیں۔ابھی اس کا جواب تو نہیں آیا لیکن اگر وہ یہاں آگیا اور پھر جرمن سے بھی ایک پادری آرہا ہے تو یہ دو ہو جائیں گے۔پھر ایک اور نو جوان آسٹریلیا کا ہے، اسے کچھ عربی بھی آتی ہے۔وہ بچپن میں ٹیونس چلا گیا تھا اور مدت تک وہیں رہا۔کوئی پندرہ ہیں سال وہاں رہ کر آسٹر یلیا واپس آیا ہے۔اس نے بھی لکھا ہے کہ میں اپنے آپ کو وقف کرنا چاہتا ہوں۔اگر وہ بھی آگیا تو تین بن جائیں گے۔پھر ایک شخص فلپائن سے آرہا ہے۔وہاں کی گورنمنٹ اس کے رستہ میں روکیں ڈال رہی ہے۔اس لئے وہ ابھی تک نہیں آسکا۔لیکن اگر وہ آگیا تو چار ہو جائیں گے۔نیو یارک سے اطلاع آئی ہے کہ ایک 673