تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 672 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 672

خطاب فرمودہ 26 اکتوبر 1957ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم کہ ایک آگے ہے اور دوسرے پیچھے ہیں۔یہ بات عام طور پر مکھوں ،سرخابوں، کونجوں اور مرغابیوں میں پائی جاتی ہے۔میں نے انہیں دیکھ کر کہا کہ کیسا قادر خدا ہے کہ ہم تو آج پیدا ہوئے ہیں لیکن یہ خصلت اور صفت ان میں آدم کے زمانہ سے پائی جاتی ہے اور ابتدا سے اس نے جانوروں کے دماغ میں ایسا علم بھر دیا ہے کہ جس کے ماتحت وہ ہمیشہ ایک تنظیم کے ساتھ اڑتے ہیں۔اگر انسانوں کے اندر بھی ہم یہ تنظیم پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو جماعت احمد یہ باوجود تھوڑے ہونے کے ساری دنیا پر غالب آسکتی ہے۔اس وقت بھی ہماری تنظیم ہی ہے، جس کی وجہ سے گو ہماری جماعت بالکل غریب ہے مگر پھر بھی اس کا سالانہ چندہ تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کو ملا کر پچھلے سال پچاس لاکھ کے قریب تھا اور ہمیں امید ہے کہ یہ چندہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھتا چلا جائے گا۔تھوڑے عرصہ میں ہی تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ چندہ 65لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔میں تو اپنے ذہن میں یہ سوچا کرتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت کا سالانہ چندہ تین کروڑ ہو جائے تو ہم پاکستان کے گوشہ گوشہ میں اپنے مبلغ پھیلا سکتے ہیں۔کیونکہ 3 کروڑ سے 25 لاکھ روپیہ ماہوار بنتا ہے اور 25 لاکھ ماہوار روپیہ کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہر مبلغ کی ماہوار تنخواہ ایک سو رو پی بھی ہو تو ہم 25 ہزار مبلغ رکھ سکتے ہیں اور 25 ہزار مبلغ پاکستان کے گوشہ گوشہ میں پھیلایا جا سکتا ہے۔غرض آج میں تحریک جدید کے نئے سال کے لئے جماعت سے مالی قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہوں۔اب الفضل اور تحریک جدید کے کارکنوں کا فرض ہے کہ وہ اس اعلان کو بار بار پھیلائیں اور اس کی اشاعت کریں۔ہر دوست کو چاہیے کہ وہ کوشش کرے کہ پچھلے سال اس نے جو کچھ چندہ دیا تھا، اس سال اس سے کچھ نہ کچھ بڑھا کر دے۔پچھلے سالوں میں چونکہ چندے تھوڑے تھے، میں نے زیادہ خی کی تھی اور کہا تھا کہ ہر شخص اپنے گذشتہ سال کے چندہ سے ڈیوڑھادے۔مگر اب میں اس قید کو ہٹا تا ہوں کیونکہ لوگوں نے خود اپنی مرضی سے چندوں کو زیادہ کر دیا ہے۔اب میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی شخص اپنے پچھلے سال کے چندہ سے کم نہ دے۔اور اگر زیادہ دے سکے ، مثلاً دس فیصدی زیادہ دے سکے یا پندرہ فی صدی زیادہ دے سکے یا بیس فیصدی زیادہ دے سکے تو یہ اس کی مرضی ہے۔اور اس کا یہ فعل اسے مزید ثواب کا مستحق بنا دے گا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان نوافل کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے۔کیونکہ نفل انسان اپنی مرضی سے ادا کرتا ہے اور فرض حکم کے ماتحت ادا کرتا ہے۔ابھی ہماری شوری کے آنے میں، جب نئے سال کا بجٹ تیار ہوتا ہے، پانچ ماہ باقی ہیں۔پانچ ماہ تک یہ چندہ جمع کرتے چلے جائیں اور اس کی تحریک دوستوں کو بار بار کریں تا کہ پانچ ماہ کے بعد اس سال 672