تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 635

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمود : 26اکتوبر 1956ء ماریں، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑیں، مجھے پڑتیں۔اسی طرح تمہاری انگلی نسل آئے گی تو وہ لوگ بھی کہیں گے کہ کاش وہ اس وقت ہوتے اور جوقربانیاں تم کر رہے ہو، وہ کرتے۔لیکن اس وقت وہ تو موجود نہیں تحریک تمہارے سامنے کی جاتی ہے، مگر ایک زمانہ ایسا ضرور آئے گا کہ تمہارے پوتے اور پڑپوتے اور ہمسائے حسرت سے کہیں گے کہ ہمارے باپ دادوں نے اسلام کے لئے وہ قربانیاں نہیں کیں، جو کرنی چاہئے تھیں۔اگر ہم اس وقت ہوتے تو ہم ان سے بڑھ کر قربانیاں کرتے۔بالعموم یہ فقرہ جھوٹا ہوتا ہے۔کیونکہ کہنے کوتو یہ فقرہ انسان کہ دیتا ہے لیکن وقت آنے پر اس پر عمل نہیں کرتا۔تاریخ میں ہمیں صرف ایک مثال ایسی ملتی ہے کہ ایک شخص نے یہ فقرہ کہا اور پھر وقت آنے پر اسے سچا کر دکھایا۔اور وہ حضرت مالک تھے۔جنگ احد میں ایک موقعہ پر صحابہ کی غلطی کی وجہ سے دشمن آگے بڑھ آیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آکر پتھر پھینکنے لگا۔آپ کے پاس 20 کے قریب مسلمان کھڑے تھے، انہوں نے وہ پتھر اپنی چھاتیوں پر کھانے شروع کئے۔لیکن پھر بھی کچھ پتھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جالگے۔آپ اس وقت حفاظت کی غرض سے خود پہنے ہوئے تھے۔ایک پتھر اس خود پر لگا اور خود کا کیل آپ کے سر میں گھس گیا۔آپ بے ہوش ہو کر ان صحابہ کی لاشوں پر جاپڑے، جو آپ کے ارد گر دلڑتے ہوئے شہید ہو چکے تھے۔اس کے بعد کچھ اور صحابہ آپ کے جسم کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے اور ان کی لاشیں آپ کے جسم پر جا گریں۔مسلمانوں نے آپ کے جسم کو لاشوں کے نیچے دبا ہوا دیکھ کر خیال کیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔اور یہ خبر آنا فانا تمام مسلمانوں میں پھیل گئی اور وہ اس شہادت کی خبر اپنے اردگرد کے صحابہ کو پہنچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگ پڑے۔جب یہ خبر مدینہ میں پہنچی تو شہر کے مرد اور عورتیں اور بچے سب پاگلوں کی طرح شہر سے باہر نکل آئے اور احد کے میدان کی طرف دوڑ پڑے۔اس وقتی شکست کے وقت جو صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے اور جنہیں کفار کے لشکر کا ریلا دھکیل کر پیچھے لے آیا تھا، ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے۔ان کے کانوں میں بھی یہ خبر پہنچی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں اور وہ شخص جس نے بعد میں قیصر وکسرٹی کی حکومتوں کو تہ و بالا کر دیا تھا ، ایک پتھر پر بیٹھ کر بچوں کی طرح رونے لگ گیا۔اتنے میں حضرت مالک ان کے پاس گئے۔حضرت مالک جنگ بدر میں شامل نہیں ہو سکے تھے اور جب کبھی صحابہ اس بات کا ذکر کرتے کہ ہم نے اس جنگ میں یہ یہ قربانی کی ہے تو حضرت مالک شخصہ میں آجاتے اور جوش کی حالت میں ٹہلنے لگ جاتے اور کہتے تم نے کیا قربانی کی ہے۔اگر میں اس وقت ہوتا تو تمہیں دکھاتا کہ کس طرح لڑا کرتے ہیں؟ دنیا میں عام قاعدہ یہ 635