تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 634

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اکتوبر 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اور گورنر اور بڑے بڑے عہدہ دار ہمیں اپنے ہاں بلاتے ہیں۔اگر ہم انہیں اپنے ہاں نہ بلائیں تو وہ ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ تم لوگ ہماری دعوتیں تو کھا جاتے ہو اور اپنی باری آئے تو ہمیں نہیں کھلاتے۔ہماری مالی حیثیت پاکستانیوں سے بہت اچھی ہے، آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم ایسے موقعوں پر گورنروں اور دوسرے عہد یداروں کو اپنے ہاں دعوتوں میں بلا لیا کریں تا کہ وہ ہمیں طعنہ نہ دے سکیں کہ ہم ان کو اپنے ہاں نہیں بلاتے۔پھر ہمارے ہاں چار چار، پانچ پانچ میل پر مکانات ہوتے ہیں، اگر اس قسم کے مواقع پر آنے والوں کو کھانا نہ کھلایا جائے تو بڑی عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔میں نے انہیں کہا کہ وہ اپنے ملک کے حالات لکھ کر بھیج دیں توان پر غور کر لیا جائے گا۔یورپ میں بھی پانچ پانچ سات سات میل پر کوٹھیاں ہوتی ہیں۔اگر اس قسم کے مواقع پر کوئی شخص ایک لمبافاصلہ طے کر کے کسی کے گھر جائے تو اسے کھانا نہ کھلایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اس دن فاقہ سے رہے۔میں نے اس واقعہ کا سید عبدالرزاق شاہ صاحب سے ذکر کیا ، جو کہ نیروبی رہ چکے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ اس دوست کی بیٹی کی شادی تھی تو انہوں نے جو دعوت کے خرچ کا اندازہ لگایا تھا ، وہ سات ہزار روپیہ تھا۔میں نے وہ خرچ اڑا دیا اور اس طرح ان کی شادی بغیر خرچ کے کروا دی۔بہر حال افریقہ میں امارت ہے اور لوگوں کے پاس روپیہ ہے اور پھر وہ لوگ قربانی بھی کرتے ہیں۔اگر اس علاقہ میں ہماری جماعت موجودہ جماعت سے دس گنا ہو جائے تو صرف افریقہ کی جماعت کا چندہ ہیں، پچیس لاکھ روپیہ سالانہ ہو جاتا ہے۔اور اگر امریکہ میں بھی موجودہ جماعت دس گنا ہو جائے تو اس کا چندہ بھی ہیں، پچیس لاکھ سالانہ ہو جاتا ہے اور وہ تبلیغ کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔لیکن یا درکھو، ایک وقت تک یہ بوجھ صرف تمہیں ہی برداشت کرنا ہوگا۔کیونکہ اس ملک میں خدا تعالیٰ نے اپناما مور بھیجا ہے اور خدا تعالیٰ اس ملک کو عزت دینا چاہتا ہے۔لوگ چاہے کتنا شور کریں اور کہیں کہ ہم اتنا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن بہر حال انہیں یہ بوجھ اٹھانا پڑے گا کیونکہ خدا تعالیٰ اس ملک کو عزت دینا چاہتا ہے۔اور اس نے اس ملک کو اپنے لئے چن لیا ہے۔تمہارے پیچھے جو لوگ آئیں گے، وہ کہیں گے کہ کاش یہ کام ہمارے زمانہ میں ہوتا تو ہم اسے سرانجام دیتے۔معلوم نہیں کہ تمہیں پرانے واقعات کو پڑھ کر ایسی تحریک ہوتی ہے یا نہیں، لیکن میں تو جب بھی پرانے واقعات پڑھتا ہوں تو میرے دل میں جوش پیدا ہوتا ہے کہ کاش میں اس وقت ہوتا اور قربانی کرتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو کوئی بے عزتی نہیں کر سکتا کیونکہ آپ خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان نبی تھے۔لیکن تاہم کفار نے آپ کو اذیت پہنچانے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔میں تو جب بھی ان واقعات کو پڑھتا ہوں، میرا دل چاہتا ہے کہ کاش میں اس وقت ہوتا اور وہ 634