تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 598

خطبہ جمعہ فرمودہ 09 مارچ 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم بجٹ پر غور کیا اور آخر تمام مشکلات حل ہو گئیں۔اسی طرح صدر انجمن احمدیہ کے اختر صاحب نے انہیں سرکاری ملازمت کا تجربہ تھا، انہوں نے چند نو جوانوں سے مل کر عملہ میں کانٹ چھانٹ شروع کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے اخراجات کم ہو گئے۔پس اگر نو جوان اپنے اندر انتظامی قابلیت پیدا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کا جماعت میں اعزاز نہ ہو اور انہیں مرکز میں اہم عہدوں پر نہ لگایا جائے۔اس کے علاوہ خود واقفین کو بھی اپنے اندر وقار اور عزت نفس کا خیال رکھنا چاہئے۔مجھے ایک دوست نے بتایا کہ میں کسی دوسرے ملک میں جار ہا تھا کہ مجھے ایک عالم نے کہا کہ مانگا تو بری بات ہے لیکن اگر آپ میرے لے کوئی تحفہ ا نا چاہیں تو فلاں چیزلے آئیں۔حالانکہ میں تو لانا غیرت کا ایسا نمونہ دکھانا چاہئے کہ اگر کسی وقت ہمارے منہ سے غلطی سے ایسی بات نکل ہی جائے اور دوسرا ہمارے لئے کوئی چیز لے آئے ،تب بھی ہم وہ چیز قبول نہ کریں۔اور کہیں کہ مجھ سے غلطی ہوئی تھی کہ میں نے آپ سے اس کا ذکر کر دیا۔اب آپ یہ چیز کسی دوسرے کو دے دیں، میں یہ لینے کے لئے تیار نہیں اور اگر پھر بھی وہ دینے پر اصرار کرے تو اسے اس کی قیمت ادا کر دی جائے۔میرے ساتھ حال ہی میں یہ واقعہ ہوا کہ ہمارے ایک دوست بجلی کا پنکھا لینے کے لئے گئے۔وہاں کوئی شخص ایک خاص قسم کے سیکھے کا آرڈر دے رہا تھا۔ہمارے اس دوست کے دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ میں یہ پنکھا، اپنے پیر کے لئے بنوا رہا ہوں۔انہوں نے کہا، میرے پیر کے لئے بھی ایک پنکھا بنوادیں۔چنانچہ وہ ایک پنکھا بنوا کر میرے پاس لے آئے۔میں نے انہیں کہا، اسے فور اواپس کر دو کیونکہ تم نے خود مانگا ہے اور سوال کر کے میری بے عزتی کی ہے۔میں اسے ہرگز قبول نہیں کر سکتا۔پس اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی کپڑا نہیں، کوٹ نہیں اور کسی دوست سے بات کرتے ہوئے تمہارے منہ سے نکل جاتا ہے کہ میرے لئے فلاں چیز لیتے آنا اور وہ لے آئے تو تم اسے کہو کہ کسی اور کو دے دو کیونکہ میرے منہ سے غلطی سے ایسی بات نکل گئی تھی۔یہ سوال ہے اور سوال کرنا منع ہے۔اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یقینا اس کی عزت بڑھے گی اور لوگ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیں گے۔اس دوست نے اس بات کی کہ واقفین کو جماعت میں بنظر استحسان نہیں دیکھا جاتا ، ایک مثال یہ دی ہے کہ انہیں کوئی لڑکی نہیں دیتا۔مگر یہ بات بالکل غلط ہے۔میری یہ عادت نہیں کہ میں کسی کا نام لے کر بات کروں ، لیکن جہاں اس کے بغیر چارہ نہ ہو، وہاں مجبوری ہوتی ہے۔میرے نزدیک ہمارے 598