تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 46
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 27 اگست 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم معلوم ہوا کہ یہ سب کام سادھوؤں کا تھا۔جنہوں نے تمام علاقہ میں پھر کر اور چکر لگا کر یہ خبر پہنچا دی تھی۔ہندوستان میں آٹھ لاکھ گاؤں ہیں۔اس طرح 16 لاکھ سادھوؤں کے یہ معنی ہوئے کہ دو، دو سادھو ایک وقت میں ایک، ایک گاؤں میں جاسکتے ہیں اور اس طرح ایک چیز سارے علاقہ میں ایک دن میں پھیلائی جاسکتی ہے۔اس کے مقابلہ میں مسلمانوں میں ایسے کتنے لوگ ہیں، جنہوں نے دین کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں؟ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے۔اے مسلمانوں ! تمہارا جو مقصد ہے تمہاری ہر وقت اس کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔وو ""۔۔۔خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ قوم کو پراگندہ ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔بلکہ فرماتا ہے کہ اسے مسلمانو ! تم جس طرف بھی نکلو، تمہارا یہ مقصد ہونا چاہیے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے دین کو کامیاب کرنا ہے۔جب تک تم اس رنگ میں کام نہیں کرو گے تمہیں کامیابی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔صحابہ نہیں یہ چیز پیدا ہو گئی تھی ، اس لئے وہ ہر رنگ میں اس کے لئے کوشش کرتے تھے اور آخر انہیں کامیابی ہو جاتی تھی۔جب تک کوئی قوم اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اپنی زندگیاں صرف نہ کر دے، وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔بلکہ اس وقت تک کسی کامیابی کی امید رکھنا ہی غلط ہے۔میں نے تمام مذاہب کی تاریخوں میں، جو بھی محفوظ ہیں، کہیں بھی نہیں دیکھا کہ ایک آدمی اگر تجارت کر رہا ہے تو وہ تجارت ہی کر رہا ہے۔اور اگر اس نے تھوڑا بہت چندہ دے دیا تو سمجھ لیا کہ اس نے دین کہ بہت بڑی خدمت کر دی ہے۔میں نے ایسی کوئی مثال نہیں دیکھی، نہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیا، نہ عیسی علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیا ، نہ رام اور کرشن علیہما السلام کی قوموں نے ایسا کیا اور نہ زرتشت علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیا۔غرض کسی بھی نبی کی قوم نے ایسا نہیں کیا۔سارے ہی موت کو قبول کرتے تھے۔تجارت اور پیشے کرنا، ان میں بھی تھا۔مگر وہ جو بھی کرتے تھے، اپنے مقصد کی تائید کے لئے کرتے تھے۔وہ نوکریاں اس لئے کرتے تھے تا جماعت کی ترقی کے لئے کوئی موقع مل سکے۔وہ زراعت اور صنعت و حرفت اس لئے کرتے تھے تا جماعت کی ترقی کے لئے کوئی موقع مل سکے۔وہ پیشے اس لئے کرتے تھے تا جماعت کی ترقی کے لئے کوئی موقع مل سکے اور وہ تجارتیں اس لئے کرتے تھے تا جماعت کی ترقی کے لئے کوئی موقع مل سکے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے بہت سے ایسے افراد ہیں کہ اگر وہ پانچ وقت نمازیں پڑھ لیتے ہیں یا چندہ دے دیتے ہیں تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے خدائی سپاہی کا کام پورا کر دیا۔اگر کسی ملک کے ایسے سپاہی ہوں تو وہ ایک ہی سال میں تباہ ہو جائے۔جب بھی کوئی نبی دنیا میں آتا ہے، اس کے 46