تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 45

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 اگست 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم یا مثلا لعلیم کو لے لو تعلیم میں جتنی انہوں نے ترقی کی ہے، ہمارا ان سے مقابلہ ہی کہاں ہے؟ ان کا ادنیٰ سے ادنی عالم ہمارے بڑے سے بڑے عالم کے مقابلہ میں زیادہ علم رکھتا ہے۔گویا علم کے میدان میں بھی ہم انہیں اس وقت تک شکست نہیں دے سکتے ، جب تک ایسے علماء پیدا نہ کئے جائیں ، جن کے سامنے یورپ کے علماء بیچ رہ جائیں۔پھر خدمت خلق کا کام ہے۔وہ ہزاروں ہزار اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔کہیں ریڈ کر اس سوسائٹیاں قائم کی جارہی ہیں، کہیں ہسپتال کھولے جا رہے ہیں اور کہیں سکول کھولے جا رہے ہیں۔اس میدان میں بھی اگر ہم انہیں شکست نہ دیں تو ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔خدمت خلق ایسی ہونی چاہیے کہ کوئی مذہب ہمارا مقابلہ نہ کر سکے۔پس اگر قرآن کریم کی یہ پیشگوئی پوری ہوسکتی ہے تو اسی وقت ، جب ہم ہر میدان میں اور ہر کام میں انہیں شکست دیں۔پھر عیسائیوں کو جانے دو، ہندوستان میں ہندوؤں کے کتنے سادھو پائے جاتے ہیں؟ خواہ وہ مذہب جھوٹا ہی ہے مگر ان کے سادھوؤں کا کم از کم سولہ لاکھ کا اندازہ ہے۔اس کے معنی ہیں ہوئے کہ ہندوستان میں سولہ لاکھ ہندو ایسے ہیں، جو شادی بیاہ کا خیال ترک کر کے اور اپنا گھر بار چھوڑ کر ننگ دھڑنگ بھوت بنے پھر رہے ہیں۔کانگریس کو جو کامیابی ہوئی ہے، اس میں بڑی مددان سادھوؤں کی تھی۔اور مجھے یاد ہے جب گاندھی جی نے رولٹ ایکٹ پر شورش کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ہم نان کو اپریشن Non cooperation کریں گے، اس وقت تین ، چار دن کے اندر سارے ہندوستان میں ایسی آگ لگ گئی تھی کہ حیرت آتی تھی۔ہم سمجھتے تھے کہ قادیان ایک طرف ہے، اس طرف کسی کی توجہ نہیں۔انہوں صرف پندرہ دن پہلے اعلان کیا تھا، اس لئے خیال تھا کہ سب ملک میں خبر نہ پہنچی ہوگی۔میں نے چاہا کہ اپنے گروہ کے لوگوں کو سمجھاؤں تا فساد نہ ہو۔میرا خیال تھا کہ یہاں کے لوگوں کو اس تحریک کی خبر تک نہ ہو گی۔جب میں نے رؤسا کو اکٹھا کرنے کے لئے آدمی بھیجے تو ان میں سے ایک آدمی نے مجھے آکر بتایا کہ فلاں گاؤں کے زمیندار کو میں نے بڑی مشکل سے یہاں آنے پر راضی کیا ہے۔وہ بات سننے سے پہلے ہی کہنے لگے کہ آخر مرزا صاحب کے آباؤ اجداد بھی اس علاقہ کے حاکم تھے اور اگر وہ دوبارہ حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ان کے ذہنوں میں یہ تھا کہ ہم نے انگریزوں کا مقابلہ کرنا ہے۔قادیان کے پاس ہی تین میل کے فاصلہ پر ٹھیکری والا ایک گاؤں ہے۔وہاں ان دنوں کافی تعداد میں پستول پہنچ گئے تھے اور وہاں ان کی پریکٹس بھی ہوا کرتی تھی۔میں نے جب اس کی تحقیقات کی تقم 45