تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 550
خطبہ جمعہ فرمود و 14 اکتوبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم پس چندوں کو زیادہ کرو اور ان طوفانوں سے مایوس نہ ہو۔بلکہ پہلوانوں کی طرح کام میں لگ جاؤ۔اور جہاں جہاں پانی خشک ہوتا ہے، وہاں فورا کھیتوں میں ہل چلا دو۔تا تمہاری آئندہ آمد نہیں پہلے سے بھی بڑھ جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ چندے بھی بڑھ جائیں۔جب مرکز مضبوط ہوگا اور بیرونی مبلغین کو بھی خدا تعالیٰ اس بات کی توفیق دے دے گا کہ وہ نو مسلموں سے چندے لیں تو سلسلہ تبلیغ وسیع ہو جائے گا۔جب بھی دنیا میں کوئی مذہبی تحریک چلی ہے، اس کے ابتدائی مبلغ اسی ملک کے ہوتے ہیں، جس میں وہ تحریک ابتداء شروع ہوتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو، اسلام کے پہلے مبلغ عرب ہی تھے۔لیکن اس کے بعد ایرانی اور عراقی آگئے اور انہوں نے اسلام کی اشاعت شروع کی۔حضرت معین الدین صاحب چشتی ، شہاب الدین صاحب سہروردی، بہاؤ الدین صاحب نقشبندی ، سب دوسرے ممالک کے تھے ، جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اسلام کی بڑی خدمت کی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد بھی پچاس، ساٹھ سال تک عیسائیت کو پھیلانے والے ان کے اپنے علاقہ کے ہی مبلغ تھے۔لیکن بعد میں اور علاقوں میں بھی مبلغ پیدا ہو گئے اور آپ کے سو سال کے بعد تو سارے مبلغ اٹلی کے ہی تھے۔پھر جرمنی اور انگلینڈ سے بھی کئی مبلغین اشاعت عیسائیت کے لئے آگے آگئے۔پس جب تک مبلغین نومسلموں کو چندہ دینے اور وقف کرنے کی عادت نہیں ڈالیں گے ، یہ کام کر لمبے عرصہ تک نہیں چل سکتا، جو کام ہمارے سپرد ہے۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر بتایا ہے کہ تین سو سال کے اندر اندر مکمل ہو جائے گا۔لیکن ایسا تبھی ہو سکتا ہے، جب ہم اولا و در اولاد کو وقف کریں اور اولا دور اولاد کو اسلام کی اشاعت کا فرض یاد دلاتے جائیں۔اگر یہ روح ہمارے اندر پیدا ہو جائے تو ہمارے لئے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔لیکن اگر ہمیں یہ نظر آئے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے بعض افراد دنیا کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں تو طبیعت بے چین ہو جاتی ہے۔آخر دین کو نظر انداز کر کے دنیا کے پیچھے لگ جانا کون سی عقلمندی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو ہمارے لئے ایک طیب غذا لے کر آئے تھے لیکن آپ کی اپنی نسل میں سے کچھ لوگ اس روحانی غذا کو چھوڑ کر مادی لذائذ کی طرف مائل ہورہے ہیں۔اگر دنیا کمانا ہی ضروری ہے تو جس شخص کو یہاں آٹھ ، نوسوروپے ماہوارمل رہا ہے، وہ اگر امریکہ چلا جائے تو اسے وہاں اڑھائی ، تین ہزار ما ہوا مل سکتا ہے۔لیکن اگر یہاں رہ کر اسے دو اڑھائی سو روپیہ ماہوار بھی ملتا تو کم از کم وہ روحانی طور پر اپنے دادا کا پوتا تو ہوتا۔مگر اب تو وہ آپ کی روحانی نسل سے منقطع ہو گیا ہے۔اور جو بھی خدا تعالیٰ کے دین 550