تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 549
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمود و 14 اکتوبر 1955ء چندہ نہیں لیتا۔چودھری صاحب نے کہا کہ میں نے اس سے کہا ہے کہ میں تو ان نو مسلموں کو اس وقت احمدی سمجھوں گا ، جب وہ با قاعدہ چندہ دیں گے۔لیکن وہ ہر دفعہ یہ عذر کر دیتا ہے کہ یہ لوگ مالی لحاظ سے کمزور ہیں اور چندہ دینے کے قابل نہیں۔میرے نزدیک چودھری صاحب کی بات بالکل درست ہے۔ہمارے مبلغین کو نو مسلموں سے چندہ لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں نے جرمنوں کو دیکھا ہے کہ وہ چندے دیتے ہیں۔ایک شخص میری آمد کے متعلق خبر پاکر دو سو میل سے چل کر مجھے ملنے آیا۔چودھری عبداللطیف صاحب مبلغ جرمنی نے مجھے بتایا کہ وہ جب سے احمدی ہوا ہے، اڑھائی پونڈ ماہوار با قاعدہ چندہ دیتا ہے۔پس اگر ہمارے مبلغین نو مسلموں کو چندہ دینے کی عادت ڈالیں گے تو انہیں عادت پڑ جائے لی۔چاہے ابتدا میں وہ ایک ایک آنہ ہی چندہ کیوں نہ دیں؟ اگر وہ ایک ایک آنہ بھی چندہ دینا شروع کر دیں گے تو آہستہ آہستہ انہیں اس کی عادت پڑ جائے گی۔اور پھر زیادہ مقدار میں چندہ دینا ، انہیں دو بھر معلوم نہیں ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہارات اور کتا بیں نکال کر دیکھ لو تمہیں ان میں یہ الفاظ دکھائی دیں گے کہ فلاں دوست بڑے مخلص ہیں، انہوں نے ایک آنہ یا دو آنہ ماہوار چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔لیکن پھر وہی لوگ بڑی بڑی مقدار میں چندے دینے لگ گئے تھے۔ہمارے ے مبلغین کو بھی چاہئے کہ وہ بھی نو مسلموں سے چندہ لینے کی کوشش کریں۔مشرقی افریقہ اور مغربی افریقہ اور دمشق والے احمدیوں کی حالت نسبتاً اچھی ہے۔دمشق کی جماعت بڑے اخلاص اور ہمت سے کام کر رہی ہے۔پھر جماعتوں کو چاہئے کہ وہ نو جوانوں کو یہاں بھجوائیں، جو یہاں رہ کر تعلیم حاصل کریں اور مرکزی اداروں میں کام کریں۔دیکھ لو، بیماری سے پہلے مجھ میں کس قدر ہمت ہوا کرتی تھی۔میں اکیلا دس آدمیوں سے بھی زیادہ کام کر سکتا تھا۔لیکن اب ایک آدمی کے چوتھائی کام کے برابر بھی نہیں کر سکتا۔اسی طرح یہ ناظر بھی انسان ہی ہیں، ان کو بھی بیماری لگ سکتی ہے اور کام کے ناقابل ہو سکتے ہیں۔پس باہر سے نو جوانوں کو یہاں آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بلکہ بہتر ہوگا کہ مختلف ممالک کے لوگ یہاں آئیں اور انجمن کا کام سنبھالیں۔تا ہماری مرکزی انجمن، انٹرنیشنل انجمن بن جائے ، صرف پاکستانی نہ رہے۔دینی لحاظ سے بے شک پاکستان کے لوگ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں لیکن اگر ان کے ساتھ ایک، ایک ممبر نائیجیریا، گولڈ کوسٹ، امریکہ، مشرقی افریقہ، ہالینڈ، جرمنی اور انگلینڈ وغیرہ ممالک کا بھی ہو تو کام زیادہ بہتر رنگ میں چل سکتا ہے۔جب یہ لوگ یہاں آکر کام کریں گے تو باہر کی جماعتوں کو اس طرف زیادہ توجہ ہوگی۔اور وہ سمجھیں گی کہ مرکز میں جو انجمن کام کر رہی ہے، وہ صرف پاکستان کی جماعتوں کی انجمن نہیں بلکہ ہماری بھی انجمن ہے۔549