تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 547

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرموده 14 اکتوبر 1955ء اوقات ایچینج نہیں ملتا۔لیکن اگر باہر کی جماعتیں کوشش کریں تو ایھینچ حاصل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔بہر حال ہمارے باہر کام کرنے والے مبلغین کو بعض اوقات کئی کئی ماہ تک خرچ نہیں جاتا۔ہمارا اس وقت جرمنی کا جو مبلغ ہے، وہ تو اپنے آپ کو ولی اللہ نہیں سمجھتا لیکن میں اسے ولی اللہ سمجھتا ہوں۔اس کی صحت خراب ہے، انتڑیاں کمزور ہیں اور ذرا سے صدمہ سے اس کی بھوک بند ہو جاتی ہے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ جرمنی میں جو احمدی ہو رہے ہیں ، وہ خدا تعالیٰ خود اس کی طرف لا رہا ہے۔ورنہ اس کے جسم میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ زیادہ کام کر سکے۔ایک دفعہ دفتر والوں نے اسے خرچ نہ بھیجا، جس کی وجہ سے وہ مکان کا کرایہ ادا نہ کر سکا۔گورنمنٹ نے اسے مکان خالی کرنے کا نوٹس دے دیا۔جرمنی میں مکانوں کی بہت کمی ہے، کیونکہ پچھلی جنگ میں اکثر مکانات گر گئے تھے۔گورنمنٹ کی طرف سے نوٹس ملنے کی وجہ سے ہمارا مبلغ بہت غمگین ہوا، اس کی بھوک بند ہوگئی، انتڑیاں پہلے ہی خراب تھیں، اس لئے فاقہ کی وجہ سے اس کی صحت اور کمزور ہوگئی۔اس کی بیوی جو قریب عرصہ میں غیر احمدی تھی لیکن اب نہایت اخلاص رکھتی ہے، اس کے پاس گئی اور کہنے لگی ، جب تم نے وقف کیا تھا تو ان سب مصائب اور مشکلات کو سامنے رکھ کر کیا تھا، پھر اب گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟ باہر جاؤ اور کسی دوست سے کچھ دنوں کے وعدہ پر رقم لے آؤ اتنے میں خرچ بھی آجائے گا۔اس پر اسے کچھ تسلی ہوئی۔کھانا کھایا اور پھر کسی دوست سے قرض کے حصول کی کوشش کے لئے باہر چلا گیا۔ان ممالک میں قرض ملنا مشکل ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ ایک جرمن دوست نے مکان کا کرایہ دے دیا اور تین دن کے بعد مرکز سے بھی خرچ پہنچ گیا اور کرایہ کی رقم اس جرمن دوست کو واپس کر دی گئی۔جرمن میں ایک ہندو ڈاکٹر مجھے ایک اور ڈاکٹر کے پاس معائنہ کے لئے لے جا رہا تھا ، وہ 26 سال سے وہاں رہتا ہے۔اس نے مجھے کہا کہ میں پہلے دہریہ تھا، اب میں اسلام کی طرف مائل ہوں۔میں نے کہا، میں تو تب مانوں، جب تم پورے مسلمان ہو جاؤ۔وہ کہنے لگا ، اگر ان مولوی صاحب کی صحبت میں رہا تو پورا مسلمان بھی ہو جاؤں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔انہی سے مل کر میرے خیالات تبدیل ہوئے ہیں۔بہر حال جرمنی کے مبلغ گو جسمانی لحاظ سے کمزور ہیں، مگر نہایت مخلص ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے کام میں برکت پیدا کر رہا ہے۔ہالینڈ میں مولوی غلام احمد صاحب بشیر ہیں، ان کی یہ حالت ہے کہ ہمیں سفر یورپ میں ایک ڈرائیور کی ضرورت تھی، چنانچہ ہم نے ہالینڈ سے چند ہفتوں کے لئے ایک نو مسلم ڈرائیور منگوایا ، وہ ڈچ کہلاتا تھا، لیکن دراصل انڈونیشیا کا رہنے والا تھا۔وہ کہنے لگا، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم اسلام کی تبلیغ کرتے 547