تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 540
خطبه جمعه فرموده 07 اکتوبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم ہماری جماعت بھی ایک انجمن بن کر رہ جائے گی۔حالانکہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلوں کے کام انجمنوں کے ساتھ نہیں چلتے بلکہ خلفاء اور اس کے ساتھ کام کرنے والے اتقیاء صلحاء اور علماء کے ساتھ چلتے ہیں۔وہ کام ایک ایسی جماعت کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں، جو قیامت تک چلتی چلی جاتی ہے اور اس کے ہر فرد کے اندر نہ صرف یہ آگ لگی ہوئی ہوتی ہے کہ اس نے خود دین کی خدمت کرنی ہے بلکہ وہ مزید خدمت کرنے والے لوگ تیار کرتا ہے۔ہمارے واقفین کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ جس طرح ہر چندہ دینے والے کے لئے صرف خود چندہ دینا کافی نہیں بلکہ مزید چندے دینے والے تیار کرنے بھی ضروری ہیں۔اس طرح ہر ایک واقف زندگی کے لئے مزید واقف زندگی تیار کرنے ضروری ہیں۔اگر ہم ایسا کر سکیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اشاعت اسلام کا یہ اہم کام قیامت تک جاری رہ سکتا ہے۔پھر یہ ضروری ہے کہ ان میں ہر ایک صلحاء اور اتقیاء کا طریق اختیار کرے اور دعاؤں میں لگ جائے۔اور نہ صرف خود دعاؤں کی عادت ڈالے بلکہ یہ احساس دوسروں کے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔آج وہ لوگ بہت کم ہیں، جنہیں دعا ئیں کرنے کی عادت ہے۔ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد ایسا ہو، جو راتوں کو جاگے اور خدا تعالیٰ کے آگے سجدہ میں گر کر روئے اور سلسلہ کے لئے دعائیں کرے اور دن کے وقت استغفار اور ذکر الہی کرے۔اور یہ عادت اس حد تک اپنے اندر پیدا کرے کہ خدا تعالیٰ کا الہام اور اس کا کلام اس پر نازل ہونے لگ جائے۔دیکھو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جتنا تغیر دنیا میں پیدا کیا ہے ، وہ صرف کتابوں کے ذریعہ نہیں کیا بلکہ وہ تغیر اس طرح پیدا ہوا ہے کہ آپ نے رات دن اس کے لئے دعائیں کیں۔جن کی وجہ سے آپ کے اندر خدا تعالیٰ کا نور پیدا ہو گیا۔جو شخص اس نور کو دیکھتا تھا، اس کے اندرا شاعت اسلام کی آگ لگ جاتی تھی اور پھر وہ آگ آگے پھیلتی جاتی تھی۔پس تم اس بات پر ہی خوش نہ ہو جاؤ کہ تم نے مولوی فاضل پاس کر لیا ہے یا شاہد کا امتحان پاس کر لیا ہے۔بلکہ دعاؤں کی عادت ڈالو اور اتنی دعائیں کرو کہ رات اور دن تمہارا شیوہ ہی دعائیں کرنا ہو تم اٹھتے بیٹھتے ہوتے جاگتے ، چلتے پھرتے دعاؤں میں لگ جاؤ۔اگر تمہارے کسی ساتھی کی طرف سے کوئی خرابی بھی پیدا ہوگی تو تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی دعا ئیں ، اس کا ازالہ کر دیں گی۔جیسا کہ احباب کو معلوم ہے، کراچی سے ربوہ آکر میری طبیعت زیادہ کمزور ہوگئی ہے۔کراچی میں طبیعت اچھی ہوگئی تھی۔ویسے یورپ میں بھی گھبراہٹ اور بے چینی کے حملے ہوتے تھے مگر وہ حملے جلد 540