تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 525
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1955ء مجھ پر نازل ہوتا اور اس کا تصرف میری زبان پر ہوتا تو میں سمجھتا تھا کہ اگر ساتھ ہزار آدمی بھی میرے سامنے ہوتاتو سجھتاتھا ہوں اور میں انہیں پہاڑ سے چھلانگ لگانے کے لئے کہوں تو وہ پہاڑ سے چھلانگ لگا دے گا۔اور اگر میں انہیں سمندر میں کودنے کے لئے کہوں تو وہ سمندر میں کو دجائے گا۔لیکن اس بیماری کے بعد مجھے یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ میری وہ قوت بیا نیہ اب مجھ میں موجود ہے یا نہیں؟ بہر حال میرے اس خطبہ کے بعد ایک احمدی نے مجھے خط لکھا کہ میرے دل میں وقف کی تحریک ہوئی ہے۔جب خدا مجھے توفیق دے گا، میں اپنی زندگی اسلام کی خدمت کے لئے وقف کردوں گا۔سر دست میں دعائیں کر رہا ہوں اور دوستوں سے مشورہ لینے کا بھی ارادہ رکھتا ہوں۔اس لئے نہیں کہ وقف اچھی چیز ہے یا نہیں؟ بلکہ اس لئے کہ میں ذاتی طور پر وقف کو نباہ سکتا ہوں یا نہیں؟ اور یہ بات درست ہے۔اچھے سے اچھا کام بھی ہو تو اس کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن یہ بات یادرکھنی چاہئے کہ مشورہ دینے والے بھی مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک مخلص احمدی، جو اپنی قربانیوں کے لحاظ سے ہمیشہ صف اول میں شریک رہے ہیں۔ان کے سامنے ایک دفعہ جبکہ میں کھانا کھا رہا تھا، میرے ایک بیٹے کا ذکر آیا۔انہوں نے کہا کہ اس کی خواہش اعلیٰ تعلیم پانے کی ہے۔لیکن میں نے اسے مشورہ دیا ہے کہ چونکہ تمہارے باپ بیمار ہیں اور ابھی ان پر بہت بوجھ ہے، اس لئے سر دست تم وہیں اپنی تعلیم مکمل کرو، پھر یہاں آکر بیرسٹری کر لینا۔میں نے کہا بیرسٹری ؟ میں تو اپنے کسی ایسے لڑکے کو دیکھ ہی نہیں سکتا، جو واقف زندگی نہ ہو۔کہنے لگے، روپے کی بھی تو ضرورت ہوتی ہے۔یہ روپیہ کمائے گا اور سلسلہ کی خدمت کرے گا۔میں اس دوست کو سلسلہ کا چوٹی کا خدمت گزار سمجھتا ہوں۔مگر جب اس نے یہ فقرہ کہا تو مجھے یوں محسوس ہوا ، جیسے اس نے میرے دل میں خنجر مار دیا ہے۔اگر اس دوست کا مشورہ صحیح ہے تو پھر اس کے معنی یہ ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ، مرزا غلام احمد، نعوذ باللہ بالکل بے وقوف اور جاہل تھے اور میں، جو ان کا خلیفہ ثانی ہوں، بڑا گدھا اور بے وقوف ہوں کیونکہ ہم نے اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لئے وقف کر دیں۔آخر دنیا کمانا مجھے بھی آتا ہے۔مجھے خدا نے وہ دماغ دیا ہے کہ بڑے سے بڑے دماغ والے اس بیماری میں بھی میرا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اور پھر خدا نے ہمیں سامان بھی دیئے۔ہمارے باپ دادا اپنے علاقے کے حاکم تھے اور انہوں نے ایک بہت بڑی جائیداد اپنے پیچھے چھوڑی۔وہ جائیداد جو تباہ ہونے کے بعد ہم تک پنچی، وہ بھی اتنی قیمتی تھی کہ اگر ہم اسے بیچنے کا موقع پاتے تو ہم تین بھائیوں کو تین ، تین کروڑ رو پیدل جاتا۔گویا ہم سارے بھائیوں کی جائیداد مجموعی طور 525