تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 495
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرموده 25 فروری 1955ء غرض ہمارے مشنوں کے لئے مزید سرمایہ کی ضرورت ہے اور اس لئے جماعت کو کسی وقت بھی اپنے فرائض نہیں بھولنے چاہئیں۔ان کے سپر د ایک بہت بڑا کام ہے۔اگر ہم مبلغین کو اخراجات نہیں دیتے تو ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔پچھلے دنوں انڈونیشیا سے ہمیں اطلاع آئی کہ وہاں اگر چہ آبادی زیادہ تر مسلمانوں کی ہے لیکن تعلیم میں عیسائیوں کو زیادہ دخل حاصل ہے۔جس کی وجہ سے طلباء عیسائیت کی طرف مائل ہورہے ہیں۔بعض طلباء نے میٹنگ کی اور اس میں ان سوالات پر غور کیا، جو وقتا فوقتا ان پر ہوتے رہے ہیں۔اس پر ہمارے مبلغ وہاں گئے اور طلبا نے چاہا کہ انہیں عیسائیت کے خلاف منظم کیا جائے۔لیکن یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم مبلغین کولٹریچر مہیا کریں، سفر کے لئے اخراجات دیں تا کہ وہ طلبہ کو منظم کرسکیں۔عیسائیت کا حملہ صرف غیر مسلم ممالک میں ہی نہیں بلکہ مسلم ممالک پر بھی عیسائیت کا شدید حملہ ہے اور وہ مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کر رہی ہے۔اس لئے صرف یورپ اور امریکہ میں ہی عیسائیت کے مقابلہ کی ضرورت نہیں بلکہ مسلم ممالک میں بھی عیسائیت کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔بعض نادان کہہ دیتے ہیں کہ مسلم ممالک میں مبلغین بھیجنے کی کیا ضرورت ہے؟ ان کے باشندے تو پہلے ہی اسلام کے پیرو ہیں۔لیکن وہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ مسلمان کہلانا اور بات ہے اور اسلام کی تعلیم پر عمل کرنا اور بات ہے۔مسلمانوں نے گزشتہ زمانہ میں اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے میں سخت کو تا ہی سے کام لیا ہے۔اس لئے اگر چہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن ان کے اندر اسلام کے لئے غیرت موجود نہیں تھی۔پس اس کے نتیجہ میں لازمی طور پر عیسائیت ترقی کرتی گئی اور اس نے مسلم ممالک میں بھی اپنا جال پھیلا دیا۔مسلمان محض نام کے رہ گئے اور تعلیم یافتہ اور جاہل دونوں عیسائیت کا شکار ہو گئے۔تعلیم یافتہ اس لئے کہ ان کے افکار پر عیسائیت غالب تھی اور جاہل اس لئے کہ ان کے اقتصاد پر عیسائیت غالب تھی۔اس وجہ سے اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔اور اس کے لئے نہ صرف ہمیں غیر مسلم ممالک میں جانا پڑے گا بلکہ مسلم ممالک میں بھی جانا پڑے گا۔اور لوگوں کے سامنے صحیح اسلامی تعلیم رکھنی پڑے گی۔پس جماعت کو اپنی ذمہ داریاں نہیں بھلانی چاہئیں۔جب بھی جماعت غفلت سے کام لے گئی ، وہ ریلہ، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے روکا تھا اور وہ سیلاب، جو آرہا تھا اور اس کے آگے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بند باندھا تھا، ٹوٹ جائے گا اور سیلاب آگے بڑھنا شروع ہو جائے گا۔اس سیلاب کو روکنا اور اس سے ہوشیار رہنا، ہماری جماعت کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔66 ( مطبوعه بروزنامه الفضل 104اکتوبر 1961) 495