تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 494
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم مجھے افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بعض بیرونی مشن بھی اپنا فرض صحیح طور پر ادا نہیں کر رہے اور ان پر ایک جمود کی سی کیفیت طاری ہے۔میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے تو میں انہیں جھنجوڑوں اور انہیں بیدار کرنے کی کوشش کروں۔بے شک بعض مشن ایسے بھی ہیں، جنہوں نے اچھا کام کیا ہے۔مثلاً نائیجریا کا مشن ہے، اس نے نہایت عمدہ کام کیا ہے۔اسی طرح فری ٹاؤن کے مشن نے بھی اچھا کام کیا ہے۔لیکن بعض مشن سست ہیں اور انہوں نے اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو سمجھا ہی نہیں۔پھر نہیں آئندہ کے لئے نئے مبلغوں کی بھی ضرورت ہے۔اگر نئے مبلغین نہیں آئیں گے تو ہم اپنے کام کو ترقی کس طرح دے سکیں گے؟ پھر اگر مبلغ آ بھی گئے لیکن روپیہ نہ آئے تو انہیں باہر بھیجنا مشکل ہو گا۔بہر حال جو مشن اس وقت تک قائم کئے جاچکے ہیں، انہیں ایک حد تک بڑھانا ہمارے لئے ضروری ہے۔اس کے ساتھ ہی ہمیں اپنے مبلغین کولٹریچر مہیا کرنا چاہیے، اسی طرح انہیں سفر خرچ اور جلسے وغیرہ منعقد کرنے کے لئے اخراجات مہیا کرنے چاہیں۔در حقیقت اب تک ہم اپنے مبلغین کو صرف کھانے پینے کے اخراجات ہی دیتے ہیں، سفر خرچ نہیں دیتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مبلغین اپنے مشن ہاؤس میں ہی بیٹھے رہتے ہیں۔اتفاقا کوئی شخص ان کے پاس آ جائے تو آ جائے۔گویا ان کی مثال پرانے زمانے کے زاویہ نشین اور صوفیوں کی سی ہے کہ کوئی آدمی ان کے پاس آ جائے تو وہ اس سے بات کر لیتے ہیں، ورنہ خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ہم انہیں اخراجات مہیا کریں گئے تو وہ باہر نکلیں گے۔اخراجات کے بغیر وہ ادھر ادھر کس طرح پھر سکتے ہیں؟ اگر ہم انہیں سفر خرچ کے لئے روپیہ نہیں دیتے صرف روٹی کا خرچ دیتے ہیں تو وہ اپنی روٹی کھا لیا کریں گئے اور سارا دن اس انتظار میں بیٹھے رہیں گئے کہ کوئی شخص ان کے پاس آئے اور وہ اسے تبلیغ کریں۔گویا ان کی مثال ایک مکڑی کی سی ہوگی۔جو اپنا جالا بن کر اس انتظار میں رہتی ہے کہ کوئی اس کے جالے میں پھنسے اور وہ اس کا شکار کرے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انہیں سفر کے لئے خرچ دیں، لیکچروں کے لئے خرچ دیں۔اسی طرح لٹریچر دیں تا کہ وہ اسے لوگوں میں تقسیم کر سکیں۔جہاں جماعت قائم ہو چکی ہے، وہاں تو مبلغین کچھ نہ کچھ کام کرتے رہتے ہیں۔لیکن جہاں جماعت قائم نہیں ہوئی۔وہاں یہی حالت ہے کہ مبلغ سارا دن اس انتظار میں رہتا ہے، کوئی شخص خود چل کر اس کے پاس آئے اور وہ اسے تبلیغ کرے یا پھر وہ دعا کرتا رہتا ہے کہ یا الہی کوئی شکار بھیج۔صاف بات ہے کہ اصل شکاری وہی ہے، جو شکار کی جگہ پر خود پہنچے۔اگر کسی کے پاس اتفاقی طور پر خود شکار آجاتا ہے تو وہ کوئی شکاری نہیں۔جو شکاری کسی درخت کے نیچے بیٹھ جائے اور اس انتظار میں رہے کہ کوئی نیل گائے یا ہرن راستہ بھٹک کر اس کہ پاس آجائے تو وہ شکاری نہیں کہلا سکتا۔494