تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 398
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم جب وہ ہمارے پاس آتے ہیں تو اگر وہ میٹرک پاس تھے تو زیادہ سے زیادہ انہیں 90،80 پے تنخو اہل سکتی تھی۔لیکن جب وہ بی۔اے یا ایم۔اے ہو جاتے ہیں اور ان میں قابلیت پیدا ہو جاتی ہے تو انہیں کسی جگہ سے تین سو ، ساڑھے تین سو کی آفر (offer) آجاتی ہے۔یہ آفر اس لئے آتی ہے کہ سلسلہ نے ان پر خرچ کیا ہوتا ہے۔اس سے پہلے وہ عملاً یا عقلاً 80 یا100 روپیہ کما سکتے تھے۔لیکن پھر وہ کہتے ہیں کہ ہمارے حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم وقف میں رہیں۔جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ قابل سمجھتے ہیں۔حالانکہ یہ قابلیت صرف اس لئے پیدا ہوئی کہ سلسلہ نے ان پر روپیہ خرچ کیا اور ان کی مالی امداد کی۔پھر جن کو ہم نے امداد نہیں دی بلکہ وہ اپنے اخراجات سے پڑھے ہیں، ان پر بھی ذمہ داری کم نہیں۔وہ بھی اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے سے ہی پڑھے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں توفیق نہ دیتا تو وہ کیسے پڑھتے ؟ میرے اپنے بچے ہیں، میں نے انہیں خود پڑھایا ہے۔اب ایک لڑکا تبلیغ کے لئے انڈونیشیا گیا ہے تو میں اسے اپنی جیب سے خرچ دیتا ہوں اور آئندہ بھی میرا ارادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے تو جو بچہ بھی تبلیغ کے لیے باہر جائے، میں اس کا خرچ خود ہی برداشت کروں لیکن سیدھی بات ہے کہ میرے بچے میرے سامنے تو بول نہیں سکتے۔جب ہم بچے تھے تو ہماری جائیدادیں لا پرواہی کا شکار تھیں اور ہمیں اتنی بھی توفیق نہیں تھی کہ ان کی نگرانی کے لئے پندرہ ہیں روپے ماہوار پر کوئی آدمی ملازم رکھ لیں۔جب زمین کے کاغذات مجھے دیئے گئے تو میں گھبرا گیا کہ ان کا انتظام کیسے کروں گا ؟ مجھے کام کا تجربہ نہیں تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور ہمیں ایک آدمی مل گیا۔اس نے کہا مجھے آپ دس روپیہ ماہوار دے دیا کریں، میں جائیداد کا انتظام کرتا ہوں۔چنانچہ تھوڑے عرصہ کے بعد ہی وہ جائیداد ، جس کی آمد اس قدر بھی نہیں تھی کہ ہم پندرہ بیس روپے ماہوار پر کوئی آدمی ملازم رکھ لیں، اس سے آمد پیدا ہونے لگی۔جب قرآن کریم کا پہلا پارہ شائع کرنے کا سوال پیدا ہوا تو میں نے اس وقت فیصلہ کیا کہ ہم اپنے خرچ پر اسے شائع کریں گے۔چنانچہ میں نے اس شخص کو بلایا اور کہا کہ مجھے اشاعت قرآن کریم کے لئے کچھ رقم کی ضرورت ہے۔وہ کہنے لگا، آپ کو اس رقم کی کب ضرورت ہے؟ میں نے کہا مہینہ، دومہینہ میں مل جائے۔اس نے کہا، میرا یہ خیال تھا کہ آپ یہ کہیں گے کہ مجھے اس وقت رقم کی ضرورت ہے۔میں آپ کو آج شام تک مطلوبہ رقم لا دوں گا۔میں نے کہا تم شام تک رقم لاؤ گے؟ آخر کہاں سے لا دو گے، مجھے دو اڑھائی ہزار روپے کی ضرورت ہے؟ اس نے کہا، مجھے کچھ زمین بیچنے کی اجازت دے دیں۔اور اس نے اس زمین کی طرف 398