تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page iv
اور ان کا زہد تمہارے لئے قابل رشک ہے، اسی طرح تمہارا اس زمانہ میں کام کرنا ، ان کے لئے بھی قابل رشک ہے۔تمہیں اس بات پر رشک آتا ہے کہ انہوں نے کس کس رنگ میں خدا تعالیٰ کو پانے کے لئے کوشش کی اور کیا کیا رستے برکتوں کے خدا تعالیٰ نے ان کے لئے کھولے۔اور تم رشک کرنے میں حق بجانب ہو کیونکہ وہ اپنے زمانہ میں دین کے ستون تھے۔وہ اپنے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی رحمت کے نشان تھے اور خدا تعالیٰ کا چہرہ دکھانے والے تھے۔لیکن میں سچ کہتا ہوں، وہ بھی تم پر رشک کرتے ہیں۔کیونکہ تمہیں خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں پیدا کیا ہے، جس کے لئے ان کو بھی تڑپ تھی۔پس اپنی حیثیت کو سمجھتے ہوئے اور اپنے عالی مقام کو دیکھتے ہوئے تم وہ طریق کار تلاش کرو، جو بڑے درجہ کے لوگوں کو اختیار کرنا چاہئے۔تحریک جدید میں شمولیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔وو (خطبہ جمعہ فرمودہ 13 جنوری 1950ء)۔۔۔ہر ایک احمدی کو بتاؤ کہ اس کا تحریک جدید میں حصہ لینا، احمدیت کے قیام کی غرض کو پورا کرنا ہے۔اگر کوئی شخص تحریک جدید میں حصہ نہیں لیتا تو اس کے احمدیت میں داخل ہونے کا کیا فائدہ؟ "" خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جنوری 1952 ء ) تحریک جدید کے بنیادی اصولوں کے متعلق فرمایا:۔تحریک جدید کی بنیاد در حقیقت انہی اصول پر ہے، جن پر اسلام کی بنیا درکھی گئی ہے۔اسلام کی بنیاد بھی اس بات پر رکھی گئی تھی کہ خدا تعالیٰ کے کلام کی تشہیر اور ترویج کی جائے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو پیغام دیا ہے، ہمارا فرض ہے کہ ہم اس پیغام کو ساری دنیا تک پہنچائیں۔پس تحریک جدید کی بنیاد بھی اس بات پر ہے کہ اسلام کے نام کو روشن کیا جائے اور قرآن کریم کے پیغام کو دنیا تک پہنچایا جائے۔تحریک جدید کے مطالبات کے بارے میں فرماتے ہیں:۔22 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 نومبر 1952 ء ) قرآن کریم میں متواتر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کا مال اور ان کی جانیں لے لی ہیں اور اس کے بدلہ میں ان سے جنت کا وعدہ کیا ہے۔اور یہی چیز