تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page iii
پھر ایک موقع پر تحریک جدید کی اہمیت ان مختصر مگر جامع الفاظ میں بیان فرمائی کہ پس تحریک جدید کوئی معمولی ادارہ نہیں بلکہ اسلام کے احیاء کی کوششوں میں سے ایک زبردست کوشش ہے۔وو (خطبہ جمعہ فرموده 17 دسمبر 1954 ء ) جماعت کو اس کے مقام اور ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔یہ کام اللہ تعالیٰ کا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس کے لئے وہ خود ہی ہر قسم کے رستے کھولے گا۔لیکن یہ اس کی عنایت ہے کہ وہ ہمیں کام کا موقع دے رہا ہے۔پس مبارک ہے، وہ شخص جسے خدا تعالیٰ نے ایسے زمانہ میں پیدا کیا، جس کی امید لگائے ہوئے بڑے بڑے صلحاء اور اولیاء اور بزرگ سینکڑوں سال سے انتظار کر رہے تھے۔اور مبارک ہے، وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں پیدا کر کے اسے حضرت مسیح موعود و مہدی موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی شناخت کی بھی توفیق بخشی ، جس کی انتظار سینکڑوں سال سے دنیا کر رہی تھی۔۔۔اور پھر مبارک ہے، وہ شخص جس کو حضرت مسیح موعود مہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت کے بعد خدا تعالیٰ نے کام کی توفیق بخشی اور ایسے کام کی توفیق بخشی کہ اسے اس غرض کو ، جس کے لئے وہ دنیا میں آیا تھا، پورا کرنے کے لئے معتد بہ حصہ ملا اور ایسا حصہ ملا کہ خدا تعالیٰ کے دفتر میں وہ سابقون الاولون میں لکھا گیا۔پس نو جوانوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں زریں موقع عطا فرمایا ہے۔جو صدیوں بلکہ میں کہتا ہوں، ہزاروں سال میں بھی میسر نہیں آتا۔۔۔اس زمانہ کو شیطان کی آخری جنگ کہا گیا ہے۔گویا اس سے زیادہ نازک وقت دین پر کبھی نہیں آیا اور آئندہ بھی نہیں آئے گا۔سو اس موقع پر جس کو کام کرنے کی توفیق ملے، وہ نہایت ہی بابرکت انسان ہے۔پس اپنی اہمیت کو سمجھو، وقت کی نزاکت کو محسوس کرو اور خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر کرو، جو اس نے تمہارے ہاتھوں کی پہنچ میں رکھی ہے ، صرف تمہیں اپنا ہاتھ لمبا کرنے کی ضرورت ہے۔جس کے لئے وہ صلحاء اور بزرگ بھی ترستے رہے، جن کو یاد کر کے تمہاری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور تم ان پر رشک کرتے ہو۔جس طرح ان کا تقویٰ )۔