تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 386
خطبہ جمعہ فرمود : 12 فروری 1954ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم مظاہرہ کر رہے ہیں۔اگر ان میں اسلام کی روح ہوتی تو وہ اخلاق سے پیش آتے اور اس قدر ظالمانہ فعل نہ کرتے۔چنانچہ ان واقعات کا مجھ پر سخت اثر ہوا اور میں اپنے باپ کے پاس گیا، جو کٹر احراری تھے۔میں نے ان سے کہا، عدل، انصاف اور شریعت ان حرکات کی اجازت نہیں دیتی ، جو آپ لوگ احمدیوں سے کر رہے ہیں۔میری یہ بات سن کر انہوں نے کہا ، نکل جا گھر سے تو بے دین ہو گیا ہے۔اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ اسلام صرف احمدیت میں ہے، اس لئے میرا باپ بھی کچی بات کو برا مناتا ہے۔اس سے احمدیت کی صداقت مجھ پر کھل گئی اور میں نے بیعت کا پختہ ارادہ کر لیا۔پس جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کے نشانات دیکھ لے تو خدا تعالی کی طرف سے اسے ایک نور ملتا ہے، جس سے اس کا دل منور ہو جاتا ہے۔بعض لوگوں کو یہ نور نشانات دیکھنے سے پہلے ہی مل جاتا ہے اور جس شخص کو یہ نور مل جائے ، وہ کسی کے گمراہ کرنے ، ورغلانے اور دکھ دینے سے پیچھے نہیں ہتا۔پچھلی شورش میں بعض ایسے نو جوانوں نے بیعت کی ، جنہوں نے بتایا کہ ہم دیر سے اس سلسلہ کو اچھا سمجھتے تھے مگر بیعت نہیں کی تھی۔لیکن اب جب ایک بڑا فتنہ احمدیت کے خلاف اٹھا تو ہم نے خیال کیا کہ امن کے دنوں میں تو شہادت کا موقع نہیں مل سکتا۔اب ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے، اگر ہم احمدیت میں داخل ہو جائیں تو شہادت کا موقع مل جائے گا۔ایک نوجوان نے مجھے لکھا کہ میں دل سے دس سال سے احمدی ہوں، اس فتنہ کے دوران میں نے خیال کیا کہ اب احمدیت کی خاطر جان دینے کا وقت آگیا ہے، اگر میں اب بیعت نہیں کروں گا تو کب کروں گا ؟ پس اصل چیز ایمان کا پیدا ہو جانا ہے۔جب کسی کے اندر ایمان پیدا ہو جائے تو اس کو صداقت کی خاطر قربانیاں کرنے سے کوئی شخص روک نہیں سکتا۔ایمان پیدا ہو جانے کے بعد سب گڑھے، کانٹے اور سمندر، جو بھی رستہ میں آئیں، آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔پس ایک دفعہ تمام افراد کے اندر قربانی کا ذوق پیدا کرو۔اور چھوٹے ، بڑوں کو تحریک جدید میں شامل کرو۔چھوٹوں کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کرو۔چاہے تم ان کی طرف سے ایک، ایک پیسہ ہی دو لیکن ان کو تحریک جدید میں شریک ضرور کرو۔یہ درست ہے کہ اگر وہ الگ طور پر حصہ لیتے تو ہم ان سے کہتے ، دوسروں سے مل کر پانچ روپیہ دے دو اور تحریک جدید میں شامل ہو جاؤ۔لیکن جب ان کا باپ اور ماں اس میں شریک ہیں تو ان کے لئے کوئی مشکل نہیں۔باپ یا ماں ان کی طرف سے اپنے چندہ کے ساتھ چار، چار آنہ دے کر ان کو ساتھ ملالیں۔اور پھر ان کی طرف سے چندہ لکھانے کے ساتھ ساتھ انہیں بتا ئیں کہ ان کے لئے اس قسم کے چندوں میں شامل ہونا ضروری ہے۔پھر اب تو پندرہ میں والی روک بھی نہیں 386