تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 385
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبه جمعه فرموده 12 فروری 1954ء بعد پان میں زردہ ڈال کر مجھے دینے لگے۔دو دن ہم سفر میں رہے اور اس سفر کے دوران میں وہ مجھے پان میں زردہ ڈال کر دیتے رہے۔دو دن کے بعد میں نے دیکھا کہ زردہ کی تکلیف کم ہونے لگی۔تب میں نے اسے چھوڑ دیا کہ کہیں عادت نہ پڑ جائے۔غرض بڑی تکلیف دہ اور بدمزہ چیزیں بھی اگر علاج کے طور پر استعمال کی جائیں تو ان کی عادت پڑ جاتی ہے اور وہ اچھی معلوم ہونے لگتی ہیں۔اور جب اونی چیزوں کی عادت پڑ جاتی ہے تو دین کی قربانی کی عادت کیوں نہیں پڑے گی ؟ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان کو ایک دفعہ قربانی کے لئے آگے لایا جائے۔اس کے بعد خود بخود اس کے اندر ذوق پیدا ہو جاتا ہے، اس کے اندر ایک قسم کی تسلی پیدا ہو جاتی ہے۔پہلے وہ اپنے آپ کو لاوارث سمجھتا ہے لیکن جب وہ خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر قربانی کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو لاوارث نہیں سمجھتا، وہ خدا تعالیٰ کو اپنا وارث سمجھنے لگ جاتا ہے۔اور خدا تعالیٰ جب نظر آنے لگتا ہے تو اس کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔پہلے وہ معمولی معمولی تکلیف کی وجہ سے گھبرا جاتا تھا۔لیکن جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے آگے سجدہ میں گر جاتا ہے اور اس سے اسے تسلی ہو جاتی ہے۔پس جماعت کو چاہئے کہ وہ تمام افراد کو بینچ کر تحریک جدید میں شامل کرے۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر وہ پہلے اس میں تھوڑا حصہ بھی لے لیں گے تو بعد میں وہ زیادہ حصہ لینے لگ جائیں گے۔اس وقت جماعت کی آمد 25 ، 26 لاکھ روپیہ ماہوار ہے اور تحریک جدید کے چندے کو ملا کر جماعت کا سالانہ چندہ 13 14 لاکھ روپیہ بنتا ہے۔گویا جماعت کی موجودہ آمد میں بھی موجودہ چندہ کا نصف اور بڑھ سکتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت بڑھے گی تو آمد بھی زیادہ ہو جائے گی۔اور اس کے نتیجہ میں چندہ بھی بڑھ جائے گا۔اس میں لوگوں کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔لوگوں کی مخالفت کوئی چیز نہیں، جس سے ڈرا جائے۔سینکڑوں لوگ بیعت کرنے کے لئے آتے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے بیعت کے لئے کہا ہے۔اور جس شخص کو خدا تعالیٰ بیعت کے لئے کہہ دے، اس کو اگر کوئی رو کے بھی تو وہ رک نہیں سکتا۔گزشتہ جلسہ سالانہ پر ایک نوجوان نے بیعت کی ، وہ ایک کڑا احراری خاندان میں سے تھا۔پہلے تو میں نے خیال کیا کہ وہ جلسہ پر آ گیا ہے اور وقتی جوش کے نتیجہ میں وہ بیعت کرنے لگا ہے۔لیکن پھر اس نے تفصیل بتائی کہ بعض احمد یوں نے مجھے سلسلہ کی کتابیں پڑھنے کے لئے دیں ، جس سے مجھے احمدیت کی طرف رغبت ہوئی اور میں نے خیال کیا کہ احمدی اتنے گندے نہیں، جتنا انہیں کہا جاتا ہے۔اس کے بعد جب فتنہ کھڑا ہوا تو میری آنکھیں کھل گئیں اور میں نے خیال کیا کہ یہ کوئی اسلام نہیں ، جس کا غیر احمدی 385