تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 382

خطبہ جمعہ فرمود : 12 فروری 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم بدل لیتا ہے اور اس طرح میں دوسرے پہلو پر سو جاتی ہوں۔اور جب لڑکے کا بازو تھک جاتا ہے تو وہ مجھ سے کہہ دیتا ہے، ماں ذرا کروٹ بدل لو اور میں کروٹ بدل لیتی ہوں اور وہ دوسرے پہلو پر سو جاتا ہے۔بیٹا بڑے مزے ہیں، مجھے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔حضرت خلیفة المسیح اول فرمایا کرتے تھے کہ یہ بات سن کر مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس قسم کی غربت میں بھی وہ کتنی خوش ہے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ نیکی کی وجہ سے اسے کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔حضرت خلیفة المسیح اوّل فرماتے تھے کہ میں نے پھر اصرار کیا کہ مائی پھر بھی تمہیں کوئی خواہش ہو تو مجھے بتاؤ، میں اسے پورا کر کے ثواب حاصل کر سکوں؟ اس عورت نے کہا عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے میری نظر کمزور ہوگئی ہے، میرے پاس جو قرآن کریم ہے، وہ باریک لفظوں والا ہے۔میں تلاوت کرتی ہوں تو نظر تھک جاتی ہے۔اگر تم موٹے الفاظ والا قرآن کریم لا دو تو میں اپنی خواہش کے مطابق زیادہ دیر تک تلاوت کر سکوں۔یہ حالت جو اطمینان کی ہوتی ہے، دین کی وجہ سے نصیب ہوتی ہے۔اور اس وجہ سے حاصل ہوتی ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ نظر آجاتا ہے۔جب اسے خدا تعالیٰ نظر آجاتا ہے تو دنیا کی سب چیزیں اس کے سامنے سے ہٹ جاتی ہیں۔دنیا کی کوئی چیز اس کے اندر غم پیدا نہیں کرتی ہوئی چیز اس کے دل کی طاقتوں کو تو ڑتی نہیں۔غرض یورپ کے لوگ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ ان کے پاس بے شک دولت ہے لیکن پھر بھی انہیں دل کا چین نصیب نہیں۔اور اسے حاصل کرنے کے لئے ان کے اندر خواہش پیدا ہورہی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان تک خدا تعالیٰ کی آواز پہنچائی جائے تا وہ بھی اس پر غور کریں۔اور غرباء میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اسے قبول کر لیتے ہیں۔اسی طرح تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی اس طرف توجہ ہورہی ہے۔یہ چیز ، جو غیر ممالک میں پیدا ہو رہی ہے، اسے پورا کرنا، ہماری جماعت کے سوا اور کسی کا کام نہیں۔ہم بے شک تھوڑے ہیں، غریب ہیں، کنگال ہیں۔ہم میں سے بڑے سے بڑا دولت مند آدمی یورپ کے درمیانے درجہ کے لوگوں سے بھی نچلی حیثیت کا ہے۔ان کے ہاں درمیانے درجے کا آدمی لاکھ پتی ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں صرف چند ایسے آدمی ہیں، جن کے پاس لاکھوں روپے ہیں۔اور وہ بھی لاکھ پتی نہیں کہلا سکتے۔لاکھ پتی وہ ہوتا ہے، جس کے پاس تھیں، چالیس لاکھ روپیہ ہو۔پھر ان میں بہت سے کروڑ پتی اور ارب پتی بھی ہیں۔اور ان کے پاس چھپیں چھپیں ہمیں تھیں ارب بلکہ اس سے بھی زیادہ روپیہ ہے۔لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ نے ہماری ہی جماعت کو تو فیق دی ہے کہ اس کے قربانی کرنے والے افراد اس رنگ میں قربانی کرتے ہیں کہ حیرت آجاتی ہے۔لیکن ان کی قربانی ہمارے لئے تسلی کا موجب 382