تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 26

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 مئی 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کھانے پکتے ہیں۔میرے بہنوئی ہیں، بہنیں ہیں، بھائی ہیں بھیجے ہیں، چونکہ سب کے کھانے ایک ہی جگہ تیار ہوتے ہیں، اس لئے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص غلطی سے یہ سمجھ لے کہ یہ سب کھانے ایک گھر کے لئے ہیں۔حالانکہ وہ الگ الگ گھروں کے لئے تیار ہوتے ہیں اور الگ الگ افرادان کے اخراجات کے ذمہ دار ہیں۔بہر حال ہمارے گھر میں صرف ایک کھانا پکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔باقی ربالباس کا سوال۔سولباس آج کل جس قدر گراں ہے، وہ سب کو معلوم ہے۔دو دو، اڑھائی اڑھائی روپے میں آج کل لٹھے کا ایک گز آتا ہے۔اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ لباس میں تعیش یا آرائش کا خیال بہت بڑی رقم کے ساتھ ہی کیا جاسکتا ہے۔اور رقم ، جو میں دیتا ہوں، اس کا علم بھی مجھے کو ہی ہو سکتا ہے۔اور میں سمجھ سکتا ہوں کہ اس رقم میں سے کس حد تک اخراجات کئے جاسکتے ہیں؟ جنگ سے پہلے میں اپنی بیویوں کو پندرہ روپے ماہوار دیا کرتا تھا۔( یہ بھی قریب کی بات ہے، ورنہ شروع میں ہی سات روپے ماہوار اور کپڑے اور دوسرے اخراجات کے لیے دیا کرتا تھا۔لیکن جب سے جنگ شروع ہوئی ہے، میں اپنی بیویوں کو نہیں روپے ماہوار دیا کرتا ہوں۔میری بڑی بیوی جب سے لاہور آئی ہیں، وہ ساری کی ساری رقم انجمن میں بھیج دیتی ہیں اور ان کے پاس صرف صفر رہ جاتا ہے۔اب وہ خاتون خود ہی سوچیں کہ صفر میں کتنی عیاشی کی جاسکتی ہے؟ میری باقی بیویوں کے اخراجات کا بھی آسانی کے ساتھ پتہ لگ سکتا ہے۔وصیت سب نے کی ہوئی ہے، تحریک جدید کے دفتر سے پوچھ لیں کہ وہ تحریک میں کتنا چندہ دیتی ہیں؟ پھر لجنہ اماء اللہ کا چندہ بھی دیتی ہیں، یہ چندہ کم از کم پندرہ روپے ماہوار جاپڑتا ہے اور زیادہ سے زیادہ پندرہ روپے ان کے پاس باقی رہ جاتے ہیں۔اگر یہ سارے کے سارے کپڑوں پر ہی لگا دیئے جائیں تو سال میں صرف چھ سات جوڑے لٹھے اور ململ کے بنا سکتی ہیں۔اب وہ خاتون خود ہی سوچھیں کہ وہ کون سی عیاشی ہے، جو اس رقم میں ہو سکتی ہے؟ یہ تو میں نے عقلی دلیل دی ہے، باقی ان کے لباس مجھے نظر آتے ہیں۔یہ تو نہیں کہ وہ دروازے بند کر لیتی ہیں اور صرف لجنہ کے ممبروں کو کہتی ہیں کہ آؤ اور ہمارے لباس دیکھ لو۔سب سے زیادہ میری ہی نظر ان کے لباس پر پڑتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پچھلے سات آٹھ ماہ میں ان میں سے ہر ایک کے لباس اتنے بوسیدہ ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس کوئی جوڑا بھی اب ایسا نہیں، جو کئی جگہ سے سلا ہوانہ ہو۔اسی وجہ سے بعض دفعہ تحفہ کے طور پر جب لٹھا یا ململ بعض دوست مجھے دے جاتے ہیں تو میں اس میں سے کبھی کسی کو پاجامہ یا کوئی اور کپڑا بنوا دیتا ہوں، جس سے گزارہ ہوتا رہتا ہے۔مگر اس کے باوجود یہ اعتراض کیوں پیدا ہوا؟ اصل بات یہ ہے کہ بعض عورتیں انتظام اچھا جانتی ہیں اور بعض اچھا انتظام کرنا نہیں جانتیں۔اس انتظام کے اچھا یا برا ہونے کی وجہ سے بہت بڑا فرق پیدا ہو 26