تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 25
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 مئی 1948ء حضرت مصلح موعودؓ کے خاندان پر بعض اعتراضات کے مفصل جوابات خطبہ جمعہ فرمودہ 14 مئی 1948ء۔۔۔۔اس خاتون نے جو اعتراضات لکھے ہیں، وہ یہ ہیں کہ خاندان کی عورتیں سادہ زندگی بسر نہیں کرتیں، خود کام نہیں کرتیں بلکہ گھروں میں انہوں نے نوکر رکھے ہوئے ہیں۔گوٹہ کناری سے دوسروں کو منع کیا جاتا ہے مگر خود گوٹہ کناری استعمال کی جاتی ہے۔سواری استعمال کرتی ہیں۔لجنہ کی کلرک ہے، وہ خود کام نہیں کرتیں ؟“ جہاں تک سادہ زندگی کا تعلق ہے، یہ ایک نسبتی لفظ ہے۔ہم سادہ زندگی کی کوئی ایک تعریف نہیں کر سکتے۔مثلاً سادہ زندگی میں پہلے کھانا آتا ہے۔کھانے کے متعلق ہم نے یہ اصول مقرر کیا ہوا ہے کہ ایک کھانا ہو۔اس کے متعلق اس خاتون سے بہر حال میں زیادہ واقف ہو سکتا ہوں۔کیونکہ میں روزانہ گھر میں کھانا کھاتا ہوں۔اور یہ بھی لازمی بات ہے کہ اگر گھر میں ایک سے زیادہ کھانے پکے ہوں تو عورت اپنے خاوند کے آگے ہی وہ کھانے رکھتی ہے۔مگر جہاں تک میراعلم ہے، ہمارے گھروں میں ایک ہی کھانا پکتا ہے، سوائے بیمار کے۔مثلاً بیمار کو بے مرچ سالن چاہیئے ، اب سب گھر والوں کو تو بے مرچ سالن نہیں دیا جا سکتا۔اگر کسی بیمار کے لئے بعض دفعہ بے مرچ سالن بھی تیار ہو جائے تو اس کو دو کھانے نہیں کہہ سکتے۔یا مثلاً کسی کو پیچش ہو اور اس کے لئے خشکہ پک جائے تو یہ بھی دوکھانے نہیں ہوں گے۔کیونکہ روٹی اور نے کھانی ہے اور خشکہ اور نے کھانا ہے۔پچھلے دنوں مجھے پیچش کی شکایت رہی ہے۔اس لئے میرے لئے ساگودانہ الگ پکتا رہا ہے۔کیونکہ اطباء نے لکھا ہے کہ پیچش میں ساگودانہ وغیرہ چیزیں استعمال کرنی چاہیں تا کہ انتڑیوں میں لزوجت پیدا ہو اور زخم جلدی مندمل ہوسکیں۔ایک بچہ تو ساگودانہ پر گزارہ کر سکتا ہے مگر بڑا آدمی گزارہ نہیں کر سکتا، اس لئے علاوہ ساگودانہ کے خشکہ شور با یا خشکہ دال بھی پکانا پڑتا ہے۔یا بعض اطباء اسپغول تجویز کرتے ہیں۔مگر اس کو بھی دوسرا کھانا نہیں کہا جاسکتا۔بہر حال جہاں تک کھانے کا سوال ہے، میں گواہی دے سکتا ہوں اور باورچی خانہ والے بھی گواہی دے سکتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں ہمیشہ ایک کھانا تیار ہوتا ہے۔سوائے اس کے کہ غلطی سے کوئی شخص اور نتیجہ نکال لے۔مثلاً ہمارے باورچی خانہ میں سات آٹھ گھروں کے 25