تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 374
خطبہ جمعہ فرمودہ 05 فروری 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے میں خرچ کر دیتے تھے۔پس جنگ کی صفوں میں خطر ناک ترین جگہ وہ ہوتی تھی ، جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تھے۔چاروں طرف سے دشمن فوج کے بہادر اور جری لوگ اس جگہ کی طرف لپکتے تھے۔جو لوگ آگے پیچھے ہوتے ، انہیں زیادہ برداشت نہیں کر نا پڑتا تھا۔حملہ بار بارو ہیں ہوتا تھا، جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تھے۔چنانچہ احد کی جنگ کے موقع پر جب دشمن لشکر کے تیر اندازوں نے اپنے تیروں کا رخ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیر دیا تو حضرت طلحہ آپ کے آگے کھڑے ہو گئے۔سارے تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آرہے تھے، حضرت طلحہ ان تیروں کو اپنے ہاتھوں پر لیتے رہے، یہاں تک کہ تیراتنی کثرت سے ان کے ہاتھ پر لگے کہ آپ کا ایک ہاتھ بالکل بے کار ہو گیا۔جب حضرت علی اور حضرت عائشہؓ کے درمیان جنگ ہوئی تو حضرت عائشہ کے لشکر میں زیادہ کام کرنے والے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ہی تھے۔خصوصاً حضرت طلحہ نے حضرت عائشہ " کو بچانے میں بہت زیادہ حصہ لیا۔لیکن جب لشکر واپس آیا تو ایک صحابی نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، طلحہ “ آپ کو یاد ہے کہ ایک موقع پر آپ، میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے۔اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ طلحہ تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا، جب تم علی کے مقابلہ میں لڑائی میں شامل ہو گے اور تم غلطی پر ہو گے ؟ حضرت طلحہ " کو بھی وہ واقعہ یاد آ گیا، آپ نے فرمایا ٹھیک ہے، اچھا ہوا کہ آپ نے یہ بات مجھے یاد دلا دی، میں اب حضرت علی کے مقابلہ میں لڑائی میں حصہ نہیں لوں گا۔چنانچہ وہ رات کو جنگی کیمپ سے چل پڑے تاصبح کے وقت لوگ انہیں لڑائی میں شامل ہونے کے لئے تنگ نہ کریں۔کوئی بد بخت آدمی تھا، جو بظاہر حضرت علیؓ کے لشکر سے تعلق رکھتا تھا۔اس نے حضرت طلحہ " کو کیلے جاتے دیکھا تو وہ آپ کے پیچھے پیچھے گیا۔جب آپ لشکر سے دور پہنچے تو اس نے حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیا۔اس کے بعد وہ شخص حضرت علی کے پاس آیا اور کہا، آپ کو مبارک ہو، میں نے آپ کا دشمن مار دیا ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا، کون دشمن ؟ اس نے کہا، طلحہ۔حضرت علیؓ نے فرمایا تم کو بھی مبارک ہو کہ خدا تعالیٰ تم کو دوزخ میں ڈالے گا۔اس نے کہا، کیوں؟ میں نے تو طلحہ کو آپ کی خاطر مارا ہے۔حضرت علی نے فرمایا ، میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص طلحہ کو مارے گا، وہ دوزخی ہو گا۔اسی طرح کسی مجلس میں کسی شخص نے حضرت طلحہ کے متعلق کہا ، وہ ٹنڈا ایسا ہے۔اور یہ کلمہ اس نے حقارت سے کہا۔اس مجلس میں ایک صحابی بیٹھے تھے، انہوں نے یہ بات سنی تو کہا، تجھے پتہ ہے کہ تو ٹنڈا کس 374