تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 373

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرموده 05 فروری 1954ء (پاکستانی) کے قریب سالانہ ہوتی ہے۔لیکن ہم ان کو اپنے حساب میں شامل نہیں کرتے۔کیونکہ وہاں کام بہت زیادہ ہے اور اس لحاظ سے اخراجات بھی زیادہ ہیں، اس لئے ہم وہاں سے روپیہ مرکز میں نہیں منگواتے بلکہ اسے وہیں خرچ کرتے ہیں۔اسی طرح ایسٹ اور ویسٹ افریقہ کی جماعتوں کا چندہ بھی اچھا خاصہ ہوتا ہے۔لیکن ان کے علاوہ باقی غیر ملکی جماعتوں کے چندے بہت کم ہوتے ہیں۔بہت زور دینے کے بعد اب انگلستان کی جماعت میں چندہ کی طرف کچھ توجہ پیدا ہوئی ہے اور ایک، دو نئے احمدی ایسے ہوئے ہیں، جو چندہ دینے لگے ہیں۔پہلے سارے نو مسلم چندہ دینے سے گریز کرتے تھے۔جرمنی سے بھی خط آیا ہے کہ وہاں لوگ چندہ دینے لگ گئے ہیں۔ان کی مالی حالت بہت خراب ہے لیکن بہر حال وہ چندے دے رہے ہیں۔اگر چہ وہ چندہ ان کی آمد کے لحاظ سے بہت کم ہوتا ہے۔اب ایک دوست نئے احمدی ہوئے ہیں، وہ اڑھائی پونڈ یعنی قریباً 25 روپے ماہوار چندہ دیتے ہیں۔شام کی جماعتوں کے دوست بھی چندہ دیتے ہیں۔لیکن اب وہاں ایسی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں کہ چندہ کی رقوم دوسرے ممالک میں نہیں جاسکتیں۔حکومت کی طرف سے ایسے قواعد مقرر کر دیئے گئے ہیں کہ شاید ملک میں بھی چندہ کی رقوم جمع نہ ہوسکیں۔باقی جماعتوں میں چندہ کی فراہمی قریباً صفر ہے۔انڈونیشیا، امریکہ ، ایسٹ افریقہ، ویسٹ افریقہ اور ان سے اتر کر شام، یہ ممالک ہیں، جن کے اس وقت تک چندے آئے ہیں یا ہمارے حساب میں محسوب ہوتے ہیں۔چھوٹی جماعتوں میں سے سیلون ، برما اور ملایا کی جماعتیں ہیں، جن کے افراد چندہ دیتے ہیں۔لیکن چونکہ ان ممالک میں جماعتیں بہت کم تعداد میں ہیں، اس لئے چندے بھی کم مقدار میں آتے ہیں۔فی الحال یہ سارا بوجھ پاکستان کی جماعتوں پر ہے۔یا یوں کہہ لو کہ اشاعت اسلام کے لئے چندہ دینے کا فخر ابھی تک صرف پاکستان کی جماعتوں کو حاصل ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی سے کسی نے پوچھا کہ آپ صحابہ میں سے سب سے زیادہ بہادر کس کو سمجھا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا، سب سے زیادہ بہادر ، وہ شخص ہوتا تھا، جولڑائی کی صفوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑا ہوتا تھا۔اس نے کہا، کیوں؟ اس صحابی نے جواب دیا، اس لئے کہ کفار جب اسلامی لشکر پر حملہ کرتے تھے تو وہ جانتے تھے کہ اسلام کی روح رواں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے۔اگر ہم آپ کو مار دیں گے تو اسلام ختم ہو جائے گا۔کفار اسلام کو خدا تعالیٰ مذہب نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ آپ ہی کی ذات کی طرف اسے منسوب کرتے تھے، اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم آپ کو ماریں گے تو اسلام باقی نہیں رہے گا۔اس لئے وہ اپنا سا راز ور رسول کریم 373