تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 365
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 22 جنوری 1954ء پھنسا بیٹھے ہو کہ اب سوائے بے شرمی اور بے حیائی کے کوئی چیز نہیں، جو تمہیں اس کام سے ہٹا سکے۔تبلیغ اسلام کے متعلق جوذ مہ داری تم پر عائد ہوتی ہے تم اس فرض کو جانے دو۔تم اپنے ناک کی حفاظت کرو۔اگر تم تحریک جدید سے ہٹ گئے تو تمہاری ناک کٹ جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ یہ طریق صرف اس لئے اختیار کیا تھا کہ تم کمزوری کا شکار نہ ہو جاؤ اور تمہیں مضبوط ہونے اور بہادری دکھانے کا موقع مل جائے۔تم دس اور انیس کے پھیر میں نہ پڑو، یہ کام قیامت تک کے لئے ہے۔یا یوں سمجھ لو کہ یہ کام اس وقت تک کے لئے ہے، جب تک تم زندہ رہو۔جب تم مر جاؤ گے تو یہ کام تمہارے لئے بند ہو گا۔اور جب یہ کام بند ہوگا تو تم مرجاؤ گے۔اگر تبلیغ اسلام ختم ہوگی تو تمہاری روحانی زندگی ختم ہو جائے گی۔اور اگر تم روحانی طور پر زندہ رہو گے تو تبلیغ اسلام بھی ختم نہیں ہوگی۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ تم نے بھی خدا تعالیٰ سے کچھ امید میں لگا رکھی ہیں ہم تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ حضرت عائشہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اپنے اعمال کے زور سے جنت میں چلے جائیں گے؟ آپ نے فرمایا نہیں عائشہ، میں بھی اللہ تعالٰی کے فضل سے ہی جنت میں جاؤں گا۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وجود بھی یہ کہتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی جنت میں جاؤں گا تو تم کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے ہو کہ تم اپنے اعمال کے زور سے جنت میں چلے جاؤ گے؟ آخر وہ کیا چیز ہے، جو تم خدا کے سامنے پیش کرو گے؟ اگر تم نماز پڑھتے ہو تو تم اپنے فائدہ کے لئے پڑھتے ہو، اگر تم روزے رکھتے ہو تو تم اپنے فائدہ کے لئے رکھتے ہو، اگر تم حج کرتے ہو تو تم اپنے فائدہ کے لئے کرتے ہو، اگر تم زکوۃ دیتے ہو تو تم اپنے بھائی بندوں کے فائدہ کے لئے دیتے ہو۔صرف ایک چیز ہے، جس کو تم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکتے ہو اور کہہ سکتے ہو کہ اے خدا! ہم نے تیری خاطر یہ کام کیا۔ہم پاکستان میں رہتے تھے ، نہ بند باندھتے تھے، پھٹی ہوئی پگڑیاں پہنتے تھے ، کھانے کو پیٹ بھر کر بھی نہیں ملتا تھا مگر باوجودان سب تکلیفوں کے ہم نے محض تیرے نام کو بلند کرنے کے لئے چندے دیئے۔یہی وہ چیز ہے، جس کو قیامت کے دن اپنی نجات کی خاطر تم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکتے ہو۔اور خدا تعالی ، جو عدل وانصاف کا منبع ہے، تمہیں یہی کہہ سکتا ہے کہ تم نے تکلیفیں اٹھا کر میرے نام کو بلند کیا تھا، اب میں اس جہاں میں تمہارے کام کو بلند کروں گا۔پھر یہی وہ چیز ہے، جسے تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر سکتے ہو اور کہہ سکتے ہو کہ یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کے لائے ہوئے دین کی تبلیغ کی۔365