تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 364

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 22 جنوری 1954ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم وہ لوگ ان کے اپنے بھائی بند ہیں۔لیکن یا رسول اللہ! آپ کے بار بار مشورہ پر زور دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ انصار بھی بولیں۔اور شاید حضور کا مشورہ طلب کرنے سے اس معاہدہ کی طرف اشارہ ہے، جو ہجرت سے قبل آپ کے اور انصار کے درمیان ہوا۔آپ نے فرمایا، یہ درست ہے ، وہی معاہدہ میرے مدنظر تھا۔اس پر اس انصاری رئیس نے کہا ، یا رسول اللہ ! جب ہم نے وہ شرط کی تھی کہ ہم مدینہ کے اندر رہ کر دشمن سے مقابلہ کریں گے ، مدینہ سے باہر لڑائی کی صورت میں ہم آپ کی مدد کے ذمہ دار نہیں ہوں گے ، اس وقت ہمیں پتہ نہیں تھا کہ آپ ہیں کیا؟ آپ کی شان ہم پر واضح نہیں تھی۔صرف بعض صداقتیں دیکھ کر ہم آپ پر ایمان لے آئے۔آپ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ میں ہم آپ کی مجلسوں میں بیٹھے اور ہمیں پتہ لگا کہ آپ کی شان کیا ہے؟ اب وہ معاہدہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔اب آپ کی شان ہمیں معلوم ہو چکی ہے۔اب یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے ، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن ہماری لاشوں کو روندتا ہوا آپ تک پہنچے تو پہنچے، اس سے پہلے نہیں پہنچ سکتا۔پھر اس انصاری رئیس نے کہا، یا رسول اللہ ! سامنے ( دو تین منزل پر ) سمندر ہے۔لڑائی تو الگ رہی ، آپ ہمیں حکم دیں کہ تم سب اس سمندر میں کو دجاؤ تو ہم بلا سوچے سمجھے اس میں اپنی سواریاں ڈال دیں گے۔تو دیکھو وہ بھی ایک معاہدہ تھا، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے ہجرت سے قبل کیا تھا۔میں نے تو تم سے کوئی معاہدہ نہیں کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انصار نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ مدینہ سے باہر جا کر دشمن کا مقابلہ نہیں کریں گے۔خدا تعالیٰ نے سمجھا کہ اگر ابھی سے انہیں کہہ دیا گیا کہ تمہیں دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا تو یہ لوگ ڈر نہ جائیں۔جب ان پر حقیقت کھل جائے گی تو یہ لوگ خود لڑیں گے۔اسی طرح جب میں نے تحریک جدید کا اعلان کیا تھا تو وہ تمہاری کمزوری کا وقت تھا۔اگر اس وقت میں یہ کہ دیتا کہ یہ تحریک قیامت تک کے لئے ہے تو شاید تم میں سے اکثر ہمت سے کام نہ لیتے اور اس میں حصہ لینے سے محروم رہتے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے میری زبان سے پہلے تین اور دس اور پھر انیس کا لفظ نکلوا دیا۔خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ جب یہ لوگ 19 سال تک پہنچ جائیں گے تو وہ اس میں اس طرح پھنس جائیں گے کہ ان کا اس سے نکلنا مشکل ہوگا۔اس وقت سارے اہم ممالک میں ہمارے مشن قائم ہیں اور ان میں ہماری تبلیغ ہورہی ہے۔اب اگر تحریک جدید کے کمزور ہونے کی وجہ سے ہمیں کسی مشن کو بند کرنا پڑا تو تمہاری ناک کٹ جائے گی۔اب ناک کٹوانے سے محفوظ رہنے کے لئے تمہیں ساتھ ساتھ چلنا پڑے گا۔تم اپنے آپ کو تبلیغ میں اس طرح 364