تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 351
اقتباس از خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1953ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد سوم سامان موجود ہوتو نتائج بہت زیادہ شاندار نکل سکتے ہیں۔لیکن ہراحمدی کا بلکہ ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام کے ان مبلغین کی ، جو اس تحریک کے ماتحت باہر بھیجے گئے ہیں، ہرممکن مدد کرے۔وہ مدد اسی طرح ہو سکتی ہے کہ تحریک جدید کے چندہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے۔تاہم ان مبلغین کے لئے اسلامی لٹریچر اور ان کے دوروں اور میٹنگز وغیرہ کے اخراجات مہیا کرسکیں۔اس موقع پر میں مرکز کو بھی یہ ہدایت کرتا ہوں کہ وہ مقامی خرچ کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرے۔تا تبلیغی مشنوں پر ہم زیادہ خرچ کرسکیں۔ہرانیس سال کے بعد ایک دور اس تحریک کا ختم ہوا کرے گا اور اس موقع پر باقاعدگی سے اس میں حصہ لینے والوں کی ایک فہرست کتابی صورت میں شائع ہوا کرے گی۔تا آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے وہ مشعل راہ ہو اور وہ معلوم کر سکیں کہ ہمارے بزرگوں نے کس طرح اس تبلیغی جہاد میں حصہ لیا۔چنانچہ پہلے انیس سالہ دور میں حصہ لینے والے دوستوں کی فہرست اپریل میں تیار کی جائے گی۔ایسے دوست ، جن کے ذمے کچھ بقایا ہے، اس عرصہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بقائے کو صاف کر سکتے ہیں۔تا ایسا نہ ہو کہ ان کی تھوڑی سی غفلت کی وجہ سے ان کے نام اس فہرست میں نہ آسکیں“۔تحریک جدید اب جس نازک دور میں سے گزر رہی ہے، وہ اس امر کی مقتضی ہے کہ ہر احمدی یہ فیصلہ کرے کہ اس نے بہر حال اس تحریک میں حصہ لیتا ہے حتی کہ کوئی جماعت بھی ایسی نہ ہو، جس کے سارے کے سارے افراد تحریک میں شامل نہ ہوں۔اس موقع پر میں غیر ملکی جماعتوں کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مرکز کا کام چونکہ اب وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے، اس لئے انہیں جلد سے جلد اپنا بوجھ خود اٹھانے کے لئے تیار ہو جانا چاہئے۔تا کہ مرکز جو خرچ ان پر کر رہا ہے، وہ نئے مشنوں پر کر سکے۔محنت سے کام کرنے اور اپنی آمد کو امکانی حد تک بڑھانے کی کوشش کرو۔اور یہ کوشش بجائے کسی دنیوی مقصد کو سامنے رکھنے کے اس نیت اور ارادے سے کرو کہ تا تم دین کی خدمت میں زیادہ حصہ لے سکو۔اگر تم ایسا کرو گے تو یقیناً تمہاری زمینداری اور زیادہ آمد پیدا کرنے کی کوشش بھی ثواب کا موجب ہوگی۔تمہیں چاہئے کہ پہلے اگر آٹھ ایکٹر میں کاشت کرتے ہو تو اب تحریک جدید میں حصہ لینے کی نیت اور ارادے سے نوا یکٹر زمین میں کاشت کرو۔اور پھر اس ایکڑ کے ذریعے جو زائد آمد ہو، اسے تحریک جدید میں دے دو۔اسی طرح ہمارے صناعوں کو چاہئے کہ وہ اپنی صنعت کو پہلے سے بہتر اور اچھا بنانے کی کوشش کریں۔تاجروں کو چاہیے کہ تجارت میں ترقی کریں اور اس ترقی کے ذریعہ اللہ تعالی جو زائد آمد انہیں دے، اسے تحریک جدید میں دیں۔ہمارے تاجروں میں عام طور پر یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے مال کو اس 351