تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 330

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم بارش ہو جائے اور فصل تباہ ہو جائے۔لیکن ہر سال ایسا نہیں ہوتا۔یہی ہوتا ہے کہ کسی سال پندرہ ہیں فیصدی فصل زیادہ ہو گئی اور کسی سال اس قدر فصل کم ہو گئی۔یہ تباہی کی فصل پچنیں ہمیں فی صدی تک آ جائے ، جس کی وجہ سے اخراجات تو سب اٹھانے پڑیں لیکن نفع کا حصہ سارا ضائع ہو جائے، کیونکہ مالیہ وغیرہ تو دینا ہی پڑتا ہے، یہ ہمیشہ نہیں ہوتا۔پچھلے سال ہمارے ملک میں کپاس کم ہوئی ، زمیندار بہت گھبرائے۔اس سال بھی ایسا ہی ہوا ہے۔پھر پچھلے سال جہاں کپاس کم پیدا ہوئی، وہاں قیمتیں بھی بہت زیادہ گر گئیں۔مگر کسی کے خیال میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ گندم کی قیمت یکدم بڑھ جائے گی۔چنانچہ سات روپے من سے ساڑھے بارہ روپے من تک وہ پہنچ گئی بلکہ کئی علاقوں میں پندرہ سولہ روپے فی من کے حساب سے گندم کی۔اب اگر کپاس کی فصل اچھی نہ ہونے اور بھاؤ گر جانے کی وجہ سے کسی زمیندار کی آمد 300 کی بجائے 150 روپے رہ گئی تھی تو گندم کے مہنگا ہونے کی وجہ سے اس کی آمد 300 کی بجائے 600 | ہو گئی۔اور اس طرح کپاس کی قیمت کی کمی نے زمیندار کی آمد کوکم نہ کیا بلکہ گندم کی قیمت کی بڑھوتی نے اس کی آمد کو اور زیادہ کر دیا۔پس جو کی ایک فصل کی خرابی کی وجہ سے ہوئی، اسے دوسری فصل نے دور کر دیا۔اس سال بھی یہی سنے میں آرہا ہے کہ اس علاقہ کی کپاس کی فصل قریباً تباہ ہوگئی ہے۔اللہ تعالی اس کمی کو دور کرنے کے سامان پیدا کرے گا۔ممکن ہے گندم یا دوسری فصلوں مثلاً کماد میں جو ابھی بیلا نہیں گیا اور اس سے گڑ نہیں نکالا گیا، اس سے اتنی آمد ہو جائے کہ کپاس کی تباہی کی وجہ سے آمد میں جو کمی ہوئی ، وہ دور ہو جائے۔اور پھر ممکن ہے بعض علاقوں میں کپاس کی فصل اچھی ہوئی ہو۔آمدنوں کا اندازہ خیالی باتوں پر نہیں رکھنا چاہئے۔یہ عقل کی بات نہیں کہ ایک سال بعض اتفاقی واقعات کی بنا پر قیمت چڑھ جائے تو آئندہ سال اپنی آمدن کا اندازہ اس اتفاقی قیمت پر رکھ لیا جائے۔جو لوگ خیالی قیمتوں پر اپنی آمد کا اندازہ لگاتے ہیں، وہ ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں۔مثلاً پچھلے سے پچھلے سال کپاس کی قیمت 40 روپے من ہوگئی تھی اور اس سے پہلے اس کی قیمت 55 روپے من تک پہنچ گئی تھی۔اب جو شخص اپنی آمد کا اندازہ اس قیمت کے لحاظ سے لگائے گا ، وہ حماقت کرے گا۔کپاس کی اصل قیمت سات ، آٹھ سے دس روپے فی من ہوتی ہے، 55 روپے نہیں ہوتی۔ان قیمتوں کامل جانا تو ایسا ہی ہے، جیسے کسی شخص کو بازار سے گزرتے ہوئے روپوں کی تحصیلی مل جائے۔پس ہمیں اپنے اخراجات کا اندازہ لگاتے وقت یہ خیال رکھنا چاہئے کہ کپاس کی قیمت سات، آٹھ یا حد سے حد دس روپے فی من ہے اور گندم کی قیمت پانچ ، چھ روپے فی من ہے۔اگر لوگ ایسا کریں گے تو ان کے حالات درست ہو جائیں گے اور وہ اپنی آمد کو بڑھانے کی ضرورت محسوس کریں گے۔330