تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 320
خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1953 ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم حالات کیا ہیں؟ اور ہم پر کس قدر بوجھ پڑے ہوئے ہیں؟ بلکہ ہمیں آخر دم تک دین کی خدمت کے لئے اپنی ہر چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار رہنا پڑے گا۔اور خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں، جو ہر قسم کی قربانی کے لئے پوری بشاشت کے ساتھ تیار رہتے ہیں۔ہماری جماعت میں ایک غریب سقہ تھا۔جب بھی چندہ کی کوئی تحریک ہوتی وہ فوراً آجاتا اور کچھ نہ کچھ چندہ دے دیتا۔اس کی تنخواہ صرف تمہیں روپے ماہوار تھی۔مگر آہستہ آہستہ اس کے چودہ ، پندرہ روپے چندہ میں جانے لگے۔اور وہ ہر نئی تحریک پر اصرار کرتا کہ اس میں میرا بھی حصہ شامل کیا جائے۔وہاں کے امیر جماعت نے مجھے لکھا کہ ہم اس کو بار بار سمجھاتے ہیں کہ تمہاری مالی حالت کمزور ہے، تم ہر تحریک میں حصہ نہ لیا کرو۔ہر تحریک غرباء کے لئے نہیں ہوتی۔مگر وہ کہتا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ چندہ کی تحریک ہو اور پھر میں اس میں حصہ نہ لوں؟ اس لئے آپ سے کہا جاتا ہے کہ آپ اسے روکیں۔چنانچہ میں نے اسے پیغام بھجوایا کہ آپ چندوں میں اس قدر زیادہ حصہ نہ لیا کریں۔تب کہیں جا کر وہ رکا۔تو ایسے لوگ ہماری جماعت میں پائے جاتے ہیں، مگر ان کی تعداد کم ہے۔زیادہ تر وہی لوگ ہیں، جو اپنے آپ کو چودھری سمجھتے ہیں اور جن کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں۔وہ احمدیت میں داخل ہو گئے ہیں، بغیر اس کے کہ اس امر پر غور کریں کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ اور بغیر اس کے کہ اس امر پر غور کریں کہ احمدیت کی وجہ سے ان پر کیا ذمہ واریاں ہیں ؟ مگر یہ وہ لوگ نہیں، جن سے احمدیت ترقی کرے گی۔یہ وہ لوگ نہیں ، جن کے ذریعہ اسلام دنیا میں پھیلے گا۔احمدیت اگر پھیلے گی اور اسلام اگر ترقی کرے گا تو انہیں لوگوں کے ذریعہ، جو سمجھتے ہیں کہ جو کچھ کرنا ہے، ہم نے ہی کرتا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ہم سے اپنے دین کی خدمت کا کوئی کام لے رہا ہے تو یہ ایک انعام ہے، جو ہم پر کیا جارہا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ایسے زمانہ میں ہم کو اسلام کی خدمت کے لئے چنا، جبکہ اسلام کمزور ہورہا ہے اور مسلمان صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ایسے ہی لوگ ہیں، جو ہمیشہ کے لئے زندہ رکھے جائیں گے اور ان کے نام اسلام کے مجاہدین میں شمار کئے جائیں گئے“۔( مطبوعہ روز نامہ الصلح 22 جولائی 1953 ء) 320