تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 319
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1953ء ایک سودے کا منافع اس تحریک کے لئے رکھا گیا ہے، اس لئے اس کے معنی یہ ہیں کہ انہیں اپنے نفع کا 1/140 حصہ دینا پڑا۔اور ایک سو چالیسواں حصہ دینا ہر گز کوئی ایسا بوجھ نہیں، جو کسی معمولی سے معمولی تاجر کے لئے بھی نا قابل برداشت ہو۔اسی طرح وہ زمیندار ، جن کے پاس دس ایکڑ سے زیادہ زمین ہے، ان کے لئے دو آنہ فی ایکڑ کے حساب سے چندہ دینا، کوئی بڑی بات نہیں۔دس ایکڑ سے کم زمین والوں کے لئے صرف ایک آنہ فی ایکڑ کے حساب سے چندہ مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح مزار عین کے لئے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ جن کے پاس دس ایکڑ سے کم مزارعت ہو، وہ دو پیسہ فی ایکڑ کے حساب سے اور اس سے زائد مزارعت والے ایک آنہ فی ایکٹر کے حساب سے رقم ادا کریں۔اگر کوئی سولہ ایکٹر کاشت کرے تو سولہ ایکٹر کے حساب سے صرف ایک روپیہ اسے ادا کرنا پڑے گا۔اگر چوہیں ایکٹر کاشت کرے تو ڈیڑھ روپیہ دینا پڑے گا۔اسی طرح مالکوں میں سے اگر کسی کے پاس سو ایکڑ زمین ہے تو اسے دوسو آنہ دینا پڑے گا اور اگر ہزار ایکڑ ہے تو دو ہزار آنہ دینا پڑے گا۔اور سو ایکٹر پر دوسو نہ یا ہزار ایکڑ پردوہزار آ نہ دے دینا، کوئی بڑی بات نہیں۔یہ اس قسم کا ہلکا اور آسان چندہ ہے کہ جنسی خوشی سے ایک لاکھ روپیہ سالانہ چندہ جمع ہوسکتا ہے۔مگر اب یہ حالت ہے کہ لاکھ امریکہ میں مسجد کے لئے زمین خریدی گئی تو باوجود اس کے کہ تین سال گذر گئے ، اب تک زمین کی قیمت کا بھی چندہ نہیں ہوا۔پچھلے سال یہ تحریک کی گئی تو پچیس ہزار چندہ جمع ہوا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ساری جماعت حصہ لیتی تو ایک لاکھ روپیہ سے زیادہ آنا چاہئے تھا۔36-35 ہزار پہلے آیا ہوا تھا، گویا صرف ساٹھ ہزار روپیہ امریکہ کی مسجد کے لئے آیا ہے۔حالانکہ ایک لاکھ ، چالیس ہزار کی صرف زمین تھی اور قریباً ڈیڑھ لاکھ روپیہ بھی مسجد کی تعمیر کے لئے اس پر اور خرچ ہوگا۔موجودہ رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے ، اگر جماعت میں موجودہ اخلاص برابر قائم رہے تو دس سال میں صرف امریکہ کی مسجد کے لئے چندہ جمع ہو سکتا ہے۔حالانکہ اگر سب دوست با قاعدهہ چندہ دیں تو دس سال میں تین، چار مسجدیں بن سکتی ہیں۔اور امریکہ کی مسجد بڑی آسانی سے دو، اڑھائی سال میں تیار ہو سکتی ہے۔یہ چیز اپنی ذمہ واری کے احساس کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔جتنا جتنا کسی میں اپنی ذمہ واری کا احساس ہوتا ہے، اتنا ہی اس کے اندر جوش اور قربانی کا مادہ پایا جاتا ہے۔اگر ہمارے یہ دعوے جھوٹے ہیں کہ ہم نے دنیا میں اسلام کی اشاعت کرنی ہے تو ہمیں ساری دنیا سے لڑائی مول لینے کی بجائے ان کے ساتھ مل جانا چاہئے۔اور جس طرح وہ مردہ ہیں، اسی طرح خود بھی مردہ بن جانا چاہئے۔اور اگر ہمارے اندر زندگی کے آثار ہیں اور ہم اپنے دعوؤں میں بچے ہیں تو پھر ہمیں یہ نہیں دیکھنا پڑے گا کہ ہمارے 319