تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 307

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 1953ء بن جاؤ گے۔اسی طرح ہم یہ بھی پسند نہیں کرتے ، ہم یہ بھی سن نہیں سکتے کہ کچھ عرصہ تک تو ہم پر جہاد ، جس رنگ میں بھی وہ اس زمانہ میں ہم پر فرض ہے، واجب رہے گا اور پھر ہمیں معاف ہو جائے گا اور ہم اسے چھوڑ بیٹھیں گے۔اگر ہمیں روٹی کھانا معاف نہیں ہو سکتا ، اگر ہمیں پانی پینا معاف نہیں ہو سکتا ، اگر ہمیں کپڑا پہننا معاف نہیں ہوسکتا تو روحانی زندگی کے سامان کیسے معاف ہو سکتے ہیں؟ پس یہ تحریک ہے تو دائمی اور نہ صرف دائگی بلکہ ہمارے ایمان اور اخلاص کا تقاضا ہے کہ یہ تحریک ہمیشہ جاری رہے، جس طرح روٹی کھانا دائی ہے۔خدا تعالیٰ نے ہم پر روٹی کھانا واجب نہیں کیا لیکن جس ہمیں روٹی نہیں ملتی تو ہم چلاتے ہیں، خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں کہ وہ ہمیں روٹی دے دے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ بیس سال تک روٹی کھائی ہے، اب کہہ دیا گیا ہے کہ تم روٹی نہ کھاؤ تو چلو چھٹی ہوئی۔ہمیں روٹی نہ ملے تو ہم اس پر خوش نہیں ہوتے بلکہ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے ہیں کہ وہ ہمیں کھانا دے۔انجیل میں بھی یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اے خدا! تو ہماری روز کی روٹی ہمیں بخش۔پس اگر ہمیں روٹی ملتی ہے تو ہم خدا تعالیٰ کے ممنون ہوتے ہیں اور اگر روٹی نہیں ملتی تو ہم متفکر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں، روتے ہیں، چلاتے ہیں کہ وہ ہمیں روٹی دے۔اسی طرح اشاعت دین کی بھی ہمیں ضرورت ہے۔اگر ہمیں اشاعت دین کی توفیق ملتی ہے تو ہم خدا تعالیٰ کے ممنون ہوتے ہیں اور اگر ہمیں اشاعت دین کی توفیق نہیں ملتی تو ہم شکر نہیں کرتے بلکہ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں کہ اس نے ہم میں کیوں ضعف پیدا کر دیا ہے؟ ہم دین کی خاطر کیوں اتنی قربانی نہیں کر سکتے، جتنی قربانی ہم پہلے کرتے تھے؟ یہی ایمان کی ایک زندہ علامت ہے۔اگر یہ علامت نہیں پائی جاتی تو سمجھ لو کہ ایمان بھی نہیں پایا جاتا۔پس جہاں تک چندے کا سوال ہے، میں اس کی نوعیت بتا چکا ہوں۔بار بار بتانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ جن لوگوں نے پہلے نہیں سنا تھا، وہ اب سن لیں۔اور پھر بسا اوقات ستی اور غفلت ہو جاتی ہے اور دوبارہ بیان کرنے سے انسان کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ سستی اور غفلت کو ترک کر کے بیدار ہو جائے ، اسے اس طرف توجہ ہو جائے۔لیکن ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ بعض مراحل پر آکر انسان کو خاص اخلاص اور جوش دکھانا پڑتا ہے۔جب پہلی تحریک کے جتنے سال مقرر تھے، ختم ہونے لگے تو جماعت نے غیر معمولی طور پر اس سال وعدے کئے اور اتنے غیر معمولی طور پر کئے کہ بعد میں بھی وعدوں کی تعداد اس حد تک نہیں پہنچی۔اسی طرح اب یہ انہیں سالہ دور ختم ہونے والا ہے، یہ غیر معمولی دور ہے۔اگر چہ ہم بعد میں بھی چندہ دیں گے لیکن یہاں وہ دور ختم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہم سابقون 307