تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 306

خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم آئندہ لوگ اس دفتر میں شامل ہوں گے۔صرف یہ ہوگا کہ ہر شخص کا کھاتہ الگ الگ ہوگا اور اس میں درج ہوگا کہ اس نے کس وقت سے کس وقت تک اشاعت اسلام میں مدد دی ہے؟ ممکن ہے کہ بعد میں بعض اور ذرائع بھی استعمال کئے جائیں کہ ان لوگوں کے نام یادگار کے طور پر محفوظ کر لئے جائیں، جنہوں نے اشاعت اسلام میں مدد دی۔لیکن جیسا کہ میرا ارادہ ہے، 19 سال کے پورے ہونے پر جن لوگوں نے اس تحریک میں حصہ لیا ہے، (اگر چہ یہ چندہ جاری رہے گا لیکن جن لوگوں نے اس وقت تک اس تحریک میں حصہ لیا ہے ) ان کے نام ریکارڈ میں محفوظ کر لئے جائیں۔میرا ارادہ ہے کہ انیس سال کے اختتام پر ایک رسالہ شائع کیا جائے اور اس میں ان سب لوگوں کے نام لکھے جائیں، جنہوں نے اشاعت اسلام میں انیس سال تک مدد دی۔اور پھر وہ رقم بتائی جائے، جو انہوں نے اس تحریک کے ماتحت اشاعت اسلام کے لئے دی۔اس طرح آئندہ بھی مختلف اوقات پر مختلف طریقے استعمال کئے جائیں گے، جن سے ان لوگوں کے نام بطور یادگار محفوظ کر لئے جائیں گے تا بعد میں آنے والے ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے رہیں۔اور ہم آئندہ آنے والوں کے سامنے ان لوگوں کی مثال پیش کر سکیں۔لیکن یا درکھو یہ چندہ عمر بھر کے لئے ہے اور یہ تحریک ہمیشہ جاری رہے گی۔بلکہ ہماری فطرت اور ا ہمارے ایمان کو اس سے انکار کرنا پڑے گا ، اس چیز کونا پسند کرنا پڑے گا کہ کسی وقت بھی یہ چندہ ان سے جاتا رہے۔اور کہا جائے کہ آئندہ سے تم سے یہ چندہ نہیں لیا جائے گا۔جس طرح ہم یہ پسند نہیں کرتے ، ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے ، ہم اس کا خیال بھی نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص ہماری طرف یہ بات منسوب کرے بلکہ ہم اسے برا مناتے اور گالی تصور کرتے ہیں کہ کوئی ہمیں کہے کہ تم کسی وقت جا کر باوجود صحت اور طاقت کے روزہ چھوڑ دو گے۔جس طرح ہم یہ پسند نہیں کرتے ، ہم یہ سننے کی برداشت نہیں کرتے کہ کوئی کہے کہ باوجود اس کے کہ تمہارے پاس مال ہوگا لیکن کسی وقت جا کر تم زکوۃ نہیں دو گے۔جس طرح ہم یہ پسند نہیں کرتے ، ہم یہ سننا برداشت نہیں کرتے کہ کسی وقت جا کر ہم باوجود طاقت اور قوت اور مالی وسعت کے حج نہیں کریں گے۔جس طرح ہم یہ سنا پسند نہیں کرتے کہ کوئی کہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب تم سچ کو چھوڑ دو گے۔جس طرح ہم یہ نہیں سن سکتے کہ کوئی شخص ہماری طرف یہ منسوب کرے کہ کچھ دنوں کے بعد یا دس ہیں سال کے بعد تم دیانت چھوڑ دو گے۔جس طرح ہم یہ نہیں سن سکتے کہ ہمارے متعلق کوئی کہے کہ پندرہ میں سال تک تو تم عدل وانصاف سے کام لو گے لیکن اس کے بعد تم عدل و انصاف کو چھوڑ دو گے اور تم ظالم 306